ملفوظات (جلد 1) — Page 273
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۳ جلد اول مجدد جو آیا کرتا ہے وہ ضرورت وقت کے لحاظ سے آیا کرتا ہے نہ استنجے اور وضو کے مسائل بتلانے۔ خدا جو مدبر اور حکیم خدا ہے، کیا وہ نہیں دیکھتا کہ دنیا پر طبیعیات اور فلسفہ کی زہریلی ہوا چلی ہے جس نے ہزار ہا انسانوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ صلیب پرست عیسائیوں نے کس کس رنگ میں لکھوکھا روحوں کو خدا سے دور پھینک دیا ہے۔ تو پھر کیا اس وقت ایسے مجدد کی ضرورت نہ تھی جو کسر صلیب کرے اور دلائل و بینات سے دکھاوے کہ صلیبی مذہب میں حقانیت کا نور نہیں اور ایک لکڑی پر ایمان لا کر انسان نجات کا وارث نہیں ٹھہر سکتا۔ آئے دن پچاس پچاس ہزار اور ایک ایک لاکھ اشتہار چھاپ چھاپ کر یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں اور ٹڈی دل کی طرح عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح پر اسلام پر حملہ کریں۔ اس وقت اسلام پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی انتہا نہیں ۔ ادھر خدا کا یہ وعدہ کہ انا له لحٰفِظُونَ (الحجر: ۱۰) اور ادھر اُن نا عاقبت اندیش معترضین کی یہ دانائی کہ اسلام میں حفاظت دین کے لئے معرفت کا نور لے کر کوئی نہیں آیا ، بلکہ دجال آیا ہے ۔ افسوس ! صد افسوس !! آہ ! صد آه !!! یہی تو وقت تھا کہ خدا اپنی نصرت اور تائید کا روشن ہاتھ دکھاتا ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اس نے دکھایا اور وہ اپنی چمکار دکھائے گا اور مخالفوں کو شرمندہ کر کے بتلا دے گا کہ آنے والے نے آکر کیا بنایا۔ کے ۲۱ را پریل ۱۸۹۹ء خدائے تعالیٰ کی ستاری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہ اور خطاؤں کو دیکھتا ہے لیکن اپنی ستاری اس صفت کے باعث اس کی غلط کار اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اس وقت تک جب تک کہ وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاویں ڈھانپتا ہے لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کم حوصلہ ہے اور خدائے تعالیٰ کی ذات حلیم وکریم ہے۔ ظالم انسان اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور کبھی کبھی خدائے تعالیٰ کے حکم پر پوری اطلاع نہ رکھنے کے باعث بے باک ہو جاتا ہے اس وقت ذو انتقام کی صفت کام کرتی ہے اور پھر اسے پکڑ لیتی ہے۔ ہندولوگ کہا کرتے الحکم جلد ۳ نمبر ۱۸ مورخه ۱۹ مئی ۱۸۹۹ء صفحه ۴، ۵