ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 274

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۴ جلد اول ہیں کہ پرمیشر اور آث میں ویر ہے۔ یعنی خدا حد سے بڑھی ہوئی بات کو عزیز نہیں رکھتا۔ بایں ہمہ بھی وہ ایسا رحیم کریم ہے کہ ایسی حالت میں بھی اگر انسان نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ آستانہ الہی پر جا گرے تو وہ رحم کے ساتھ اس پر نظر کرتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں پر معاً نظر نہیں کرتا اور اپنی ستاری کے طفیل رسوا نہیں کرتا تو ہم کو بھی چاہیے کہ ہر ایسی بات پر جو کسی دوسرے کی رسوائی یا ذلت پر مبنی ہو فی الفور منہ نہ کھولیں ۔ بعض لوگوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو ایسے اسباب غفلت کا علاج استغفار ہے۔ پیش آجاتے ہیں مثل ملازمت یا کوئی اور وہ کہ انکی عمر کا ایک بڑا حصہ ظلمانی حالت میں گزرتا ہے۔ نہ پابندی نماز کی طرف توجہ کرتے ہیں نہ قال اللہ اور قَالَ الرَّسُول سننے کا موقع ملتا ہے۔ کتاب اللہ پر غور کرنے کا ان کو خیال تک بھی نہیں آتا ۔ ایسی صورت میں جب ایک زمانہ ظلمت کا گزر جاوے تو یہ خیالات راسخ ہو کر طبیعت ثانیہ کا رنگ پکڑ جاتے ہیں۔ پس اس وقت اگر انسان تو بہ اور استغفار کی طرف توجہ نہ کرے تو سمجھو کہ بڑا ہی بد قسمت ہے۔ غفلت اور سستی کا بہترین علاج استغفار ہے۔ سابقہ غفلتوں اور سستیوں کی وجہ سے کوئی ابتلا بھی آجاوے تو راتوں کو اٹھ اٹھ کر سجدے اور دعائیں کرے اور خدائے تعالیٰ کے حضور ایک سچی اور پاک تبدیلی کا وعدہ کرے۔ ۲۲ را پریل ۱۸۹۹ء ہمارے دعوئی الہام و مکالمہ الہیہ کی اشاعت افترا کرنے والا کبھی مہلت نہیں پا سکتا ایک سال کے لین کاری ہت سر لزرے لر براہین کی اشاعت سے بھی لیا جائے تو ہمیں سال ہو چکے ۔ ہمارے مخالف جو ہم کو جھوٹا اور اپنے دعوے میں مفتری قرار دیتے ہیں ان سے کوئی سوال کرے کہ خدائے تعالیٰ تو کسی ایسے مفتری کو جو اس پر الہام اور مکالمہ کا افترا کرے مہلت نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی فرمایا کہ اگر تو