ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 247

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۷ جلد اول حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان باتوں پر غور کرنے کے بعد افسوس کے ساتھ ذہن دوسری طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو یہ پادری لوگ کالجوں اور سکولوں میں فلسفہ اور منطق پڑھاتے ہیں دوسری طرف مسیح کو ابن اللہ اور اللہ مانتے ہیں اور تثلیث وغیرہ عقائد کے قائل ہیں جو سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ کیوں کر اس کو فلاسفہ سے مطابق کرتے ہیں۔ انگریزی منطق کی بنا تو منطق استقرائی ہی پر ہے۔ پھر یہ کون سا استقراء ہے کہ یسوع ابن الله ہے۔ کون سی شکل پیدا کرتے ہوں گے۔ یہی ہوگا کہ مثلاً اس قسم کے خواص جن لوگوں کے اندر ہوں وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہوتے ہیں اور مسیح میں یہ خواص تھے۔ پس وہ بھی خدا یا خدا کا بیٹا تھا۔ اس سے تو کثرت لازم آتی ہے جو محال مطلق ہے۔ میں تو جب اس پر غور کرتا ہوں ، حیرت بڑھتی ہی جاتی ہے۔ نہیں معلوم یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے ؟ اسلام کے پاک اصول ایسے نہیں ہیں کہ فلسفہ یا استقراء کی ملک پر بھی کامل المعیار ثابت نہ ہوں۔ بلکہ میں نے بارہ غور کی ہے کہ قرآن کریم کی نسبت جو آیا ہے فِي كِتٰبِ مَكْنُون (الواقعة : ۷۹) یہ کتاب مکنون زمین اور آسمان کی چھپی ہوئی کتاب ہے جس کے پڑھنے پر ہر شخص قادر نہیں ہو سکتا اور قرآن کریم اسی کتاب کا آئینہ ہے اور قرآن نے وہی خدا دکھایا ہے جس پر آسمان وزمین شہادت دیتے ہیں مگر یہ انیس سو برس کا تراشہ ہوا جعلی مردہ خدا کس سند اور شہادت پر خدا بنا یا گیا ہے۔ پس یہ اسلام ہی کی خوبی اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فخر ہے کہ وہ ایسا دین لے کر آئے کہ جو ہمیشہ سے ہے اور جس کی تعلیم زمین اور آسمان کے اوراق میں بھی واضح طور پر موجود ہے۔ لے ۲۵ اگست ۱۸۹۸ء او ۲۵ اگست کی صبح کو فارسی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا مولوی عبدالکریم موجودہ فارسی صاحب سیالکوٹی نے فرمایا کہ ایرانیوں نے آج کل اپنی توجہ تصنیفات کی طرف بہت مبذول کی ہے اور اس کثرت سے عربی الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ بجز روابط کے فارسی زبان کو الحکم جلد ۲ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۲۰، ۲۷ اگست ۱۸۹۸ صفحه ۹