ملفوظات (جلد 1) — Page 246
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۶ جلد اول جناب مولانا مولوی نور دین صاحب سَلَّمَهُ رَبُّہ کی طبیعت ۳۱ جولائی ۱۸۹۸ء رعایت اسباب سے بعارضہ درد شکم بیار تھی حضرت اقدس نے آدمی بھیج کر خبر منگائی اور افاقہ کی خبر سن کر الْحَمْدُ لِلہ فرمایا اور فرمایا۔ مولوی صاحب کا سن اب انحطاط کا ہے اس لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے گویا پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے لیکن انسان کو یہ بھی مناسب نہیں کہ وہ اسباب کی رعایت نہ رکھے۔ پھر فرمایا کہ در اصل انحطاط کا زمانه ۳۰ سال کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے۔ افراط اور تفریط اس سن میں اچھی نہیں ہوتی۔ میں نے بعض آدمی دیکھے ہیں کہ گنا نیا آٹا دیتے اور پانی بھی اندازہ اور وزن کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اور بعض یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ ان کو کسی قسم کا اندازہ ہی نہیں رہتا۔ یہ دونوں باتیں ٹھیک ہیں جیسا میں نے کہا زمانہء شباب تیس ہی سال تک ہے اور یہ بھی اس صورت میں که قوی مضبوط اور تندرست ہوں ورنہ بعض تو اوائل ہی میں تشبہ بالشیوخ رکھتے ہیں ۔ ۲۳ را گست ۱۸۹۸ء کی شام حضور نے پوچھا کہ جدید فلسفہ بے دینی کیوں پیدا کرتا ہے؟ یہ موجودہ فلسفہ اکثر طبیعتوں میں بے دینی کیوں پیدا کر دیتا ہے؟ ماسٹر غلام محمد صاحب سیالکوٹی نے کہا کہ دراصل جو طبیعتیں پہلے ہی سے بے دینی کی طرف مائل ہوتی ہیں وہی اس سے اثر پذیر ہوتی ہیں ورنہ اکثر بڑے بڑے فلاسفر مزاج پادری اپنے مذہب میں پکے ہوتے ہیں ۔ الحکم جلد ۲ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۶ ، ۱۳ را گست ۱۸۹۸ صفحه ۱۶