ملفوظات (جلد 1) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد اول سے ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔ قصہ مختصر دعا سے ، تو بہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔ اخلاقی حالت ایسی درست ہو کہ کسی کو نیک نیتی سے جماعت کے لئے اخلاقی نصاب سمجھانا اورغلطی سے آگاہ کرنا اسے وقت پر ہوکہ اسے برا معلوم نہ ہو ۔ کسی کو استخفاف کی نظر سے نہ دیکھا جاوے۔ دل شکنی نہ کی جاوے۔ جماعت میں باہم جھگڑے فساد نہ ہوں۔ دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔ مال و دولت یا نسبی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کو ذلیل اور حقیر نہ سمجھو ۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متقی ہے چنانچہ فرمایا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنْقَكُمُ (الحجرات: ۱۴) دوسروں کے ساتھ بھی پورے اخلاق سے کام لینا چاہیے۔ جو بد اخلاقی کا نمونہ ہوتا ہے وہ بھی اچھا نہیں ۔ ہماری جماعت کے ساتھ لوگ مقدمہ بازی کا صرف بہانہ ہی ڈھونڈتے ہیں۔ لوگوں کے لئے ایک طاعون ہے۔ ہماری جماعت کے لئے دو طاعون ہیں۔ اگر کوئی جماعت میں سے ایک شخص برائی کرے گا تو اس ایک سے ساری جماعت پر حرف آئے گا ۔ دانش مندی حلم اور درگزر کے ملکہ کو بڑھاؤ ۔ نادان سے نادان کی باتوں کا جواب بھی متانت اور سلامت روی سے دو۔ یا وہ گوئی کا جواب یا وہ گوئی نہ ہو۔ میں جانتا ہوں حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم میں بھی کچھ ایسی ہی حکمت عملی تھی کہ اگر ایسا نہ کرتے تو روز ماریں کھاتے پھرتے ۔ رومیوں کی سلطنت تھی۔ یہود کے فقیہ اور فریسی اس کے مقرب تھے۔ اس وقت اگر وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال نہ پھیرتے تو روز ماریں کھایا کرتے اور روز مقدمے ہوتے ۔ باوجود یکہ وہ ا ۔ باوجود یکہ وہ ایسی نرم تعلیم دیتے تھے پھر بھی یہود انہیں دم نہ لینے دیتے تھے۔ اس وقت کی موجودہ حالت انجیل کی تعلیم ہی کو چاہتی ہوگی ۔ اس وقت ہماری جماعت کی حالت بھی قریباً ویسی ہی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ مارٹن کلارک عیسائی کے مقدمہ میں محمد حسین نے بھی اسی کی گواہی دی۔ اب سمجھ لو کہ قوم سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔ رہی گورنمنٹ اس کو بھی بدظن کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ کسی حد تک معذور بھی ہے اگر خدا نخواستہ وہ بدظن ہو کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں ہے۔اس لئے