ملفوظات (جلد 1) — Page 192
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۲ جلد اول قبروں میں ہی ہوں گے ۔ امیر وغریب، مرد و عورت ، بوڑھے، جوان کا کوئی لحاظ نہ کیا جاوے گا۔ اس لیے خدا نخواستہ اگر کسی ایسی جگہ طاعون پھیلے جہاں تم میں سے کوئی ہو تو میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی سب سے پہلے اطاعت کرنے والے تم ہو۔ اکثر مقامات میں سنا گیا ہے کہ پولیس والوں سے مقابلہ ہوا۔ میرے نزدیک گورنمنٹ کے قوانین کے خلاف کرنا بغاوت ہے جو خطرناک جرم ہے ۔ ہاں گورنمنٹ کا بیشک یہ فرض ہے کہ وہ ایسے افسر مقرر کرے جو خوش اخلاق ، متدین اور ملک کے رسم ورواج اور مذہبی پابندیوں سے آگاہ ہوں ۔ غرض تم خود ان قوانین پر عمل کرو اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو ان قوانین کے فوائد سے آگاہ کرو۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ دُعاؤں کا وقت یہی ہے معلوم ہوتا ہے اس وبا نے پنجاب کا رُخ کر لیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر ایک متنبہ اور بیدار ہو کر دعا کرے اور توبہ کرے۔ قرآن شریف کا منشا یہ ہے کہ جب عذاب سر پر آپڑے پھر تو یہ عذاب سے نہیں چھڑا سکتی ۔ عذاب الہی سے بچنے کے طریقے اس لیے اس سے پیشتر کہ عذاب الہی آکر تو بہ کا دروازہ بند کر دے تو بہ کرو۔ جب کہ دنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔ جب بلا سر پر آ پڑے تو پھر اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔ چاہیے کہ ہر ایک شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملاویں۔ ہر ایک قسم کی خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے تو بہ کریں۔ توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقوی اختیار کریں ۔ اخلاق کی تہذیب کریں اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔ عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکساری اس کی جگہ لے۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو ۔ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ اَسِيرًا (الدھر (9) یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن