ملفوظات (جلد 1) — Page 194
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد اول ہم کو اکثر مرتبہ گورنمنٹ کے حضور خاص طور پر میموریل بھیجنے پڑے اور اپنے حالات سے خود اس کو مطلع کرنا پڑا تا کہ اس کو صحیح اور سچے واقعات کا علم ہو۔ مناسب ہے کہ ان ابتلا کے دنوں میں اپنے نفس کو مار کر تقوی اختیار کریں۔ میری غرض ان باتوں سے یہی ہے کہ تم نصیحت اور عبرت پکڑو۔ دنیا فنا کا مقام ہے آخر مرنا ہے۔ خوشی دین ہی کی باتوں میں ہے اصل مقصد تو دین ہی ہے۔ رمضان کی حقیقت رمض سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لئے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینہ میں آیا اس لئے رمضان کہلایا۔ میرے نزدیک یہ میچ نہیں ہے۔ کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی ۔ روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی لو ہوتی ہے۔ رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں ۔ اے ۲۹ جنوری ۱۸۹۸ء انسان کی روحانی طاقتوں پر اس کے معبود کا بڑا اثر پڑتا روحانی طاقتوں پر معبد کا اثر ہے۔ دیکھا اگر کوئی ہندو جارہے تو دوری سے اس سے آ ہی غفلت کی بو آتی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کا خود ساختہ معبود بھی تو ایسا ہی غافل ہے کہ جب تک ایک انگریز کے کھانے کی گھنٹی کی طرح گھنٹی نہ بجے وہ بیدار ہی نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ روحانی زندگی سے جو معرفت اور شفا حاصل ہوتی ہے، اس سے یہ لوگ محروم رہتے ہیں ورنہ جسمانی طور پر تو بڑے متمول اور آسودہ حال ہوتے ہیں۔ رزق ابتلا اور رزق اصطفا اصل بات یہ ہے کہ رزق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک ابتلا کے طور پر، دوسرے اصطفا کے طور پر ۔ رزق ابتلا کے طور الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱، ۲