ملفوظات (جلد 1) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد اول اور پیاس کا اثر اس پر ہوتا رہا۔ آخر نا کامی کی حالت میں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ تو کون دانشمند ہوگا جو ایسے خدا کے ماننے کے لئے طیار ہوگا۔ غرض اسی طرح پر تمام قو میں اپنے مانے ہوئے خدا کا ذکر کرتی ہوئی شرمندہ ہوتی ہیں مگر مسلمان کبھی اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوتا کیونکہ جو خوبی اور عمدہ صفت ہے وہ اُن کے مانے ہوئے خدا میں موجود اور جو نقص اور بدی ہے اُس سے وہ منزہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ الفاتحہ میں اللہ کو تمام صفات حمیدہ کا موصوف قرار دیا ہے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ کے مقابل میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے۔ اس کے بعد ہے رَبِّ الْعَلَمِینَ ۔ ربوبیت کا کام ہے تربیت اور تکمیل ۔ جیسے ماں اپنے بچہ کی پرورش کرتی ہے۔ اس کو صاف کرتی ہے۔ ہر قسم کے گند اور آلائش سے دور رکھتی ہے اور دُودھ پلاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ وہ اُس کی مدد کرتی ہے۔ اب اس کے مقابل میں یہاں إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ۔ پھر الرَّحْمٰنِ ہے جو بغیر خواہش، بدوں درخواست اور بغیر اعمال کے اپنے فضل سے دیتا ہے۔ اگر ہمارے وجود کی ساخت ایسی نہ ہوتی تو ہم سجدہ نہ کر سکتے اور رکوع نہ کر سکتے اسی لئے ربوبیت کے مقابلہ میں اِيَّاكَ نَسْتَعِین فرمایا۔ جیسے باغ کا نشو و نما پانی کے بغیر نہیں ہوتا اسی طرح پر اگر خدا کے فیض کا پانی نہ پہنچے تو ہم نشوونما نہیں پا سکتے ۔ درخت پانی کو چوستا ہے۔ اس کی جڑوں میں دہانے اور سوراخ ہوتے ہیں۔ طبعی میں یہ مسئلہ ہے کہ درخت کی شاخیں پانی کو جذب کرتی ہیں ۔ اُن میں قوت جاذبہ ہے۔ اسی طرح پر عبودیت میں ایک قوت جاذ بہ ہوتی ہے جو خدا کے فیضان کو جذب کرتی ہے اور چوستی ہے۔ پس الرَّحْمنِ کے بالمقابل اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے یعنی اگر اس کی رحمانیت ہمارے شاملِ حال نہ ہوتی ۔ اگر یہ قومی اور طاقتیں تو نے عطا نہ کی ہوتیں تو ہم اس فیض سے کیوں کر بہرہ ور ہو سکتے ۔ اے پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - الرَّحْمَنِ کے بالمقابل ہدایت رحمانیت الہی سے ملتی ہے ہے کیونکہ ہدایت پانا کسی کا حق تو ہی ہے بلکہ نہیں محض رحمانیت الہی سے یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - الرَّحِيمِ کے الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱