ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 186

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۶ جلد اول پیدا کیا ہے، تو کیا ایسے خدا کے ماننے والے کے لئے کوئی مفر رہ سکتا ہے جب اُسے کہا جائے کہ ایسا خدا اگر مر جائے تو کیا حرج ہے کیونکہ جب یہ اشیاء اپنا وجود مستقل رکھتی ہیں اور قائم بالذات ہیں پھر خدا کی زندگی کی ان کی زندگی اور بقا کے لئے کیا ضرورت ہے؟ جیسے ایک شخص اگر تیر چلائے اور وہ تیرا بھی جاہی رہا ہو کہ اُس شخص کا دم نکل جائے تو بتاؤ اس تیر کی حالت میں کیا فرق آئے گا۔ ہاتھ سے نکلنے کے بعد وہ چلانے والے کے وجود کا محتاج نہیں ہے ۔ اسی طرح پر ہندوؤں کے خدا کے لئے اگر یہ تجویز کیا جائے کہ وہ ایک وقت مر جاوے تو کوئی ہندو اس کی موت کا نقصان نہیں بتا سکتا مگر ہم خدا کے لئے ایسا تجویز نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ کے لفظ سے ہی پایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی نقص اور بدی نہ ہو۔ ایسا ہی جب کہ آریہ مانتا ہے کہ اجسام اور روحیں انادی ہیں یعنی ہمیشہ سے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ جب تمہارا یہ اعتقاد ہے پھر خدا کی ہستی کا ثبوت ہی کیا دے سکتے ہو؟ اگر کہو کہ اس نے جوڑا جاڑا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ جب تم پر مانو اور پر کرتی کو قدیم سے مانتے ہو اور ان کے وجود کو قائم بالذات کہتے ہو تو پھر جوڑ نا جاڑنا تو ادنی فعل ہے۔ وہ جڑ بھی سکتے ہیں اور ایسا ہی جب وہ یہ تعلیم بتاتے ہیں کہ خدا نے وید میں مثلاً یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی عورت کے ہاں اپنے خاوند سے بچہ پیدا نہ ہوسکتا ہو تو وہ کسی دوسرے سے ہم بستر ہو کر اولاد پیدا کر لے تو بتاؤ ایسے خدا کی نسبت کیا کہا جاوے گا ؟ یا مثلاً یہ تعلیم پیش کی جائے کہ خدا کسی اپنے پریمی اور بھگت کو ہمیشہ کے لئے مکتی یعنی نجات نہیں دے سکتا بلکہ مہا پر لے کے وقت اس کو ضروری ہوتا ہے کہ مکتی یافتہ انسانوں کو پھر اُسی تناسخ کے چکر میں ڈالے یا مثلاً خدا کی نسبت یہ کہنا کہ وہ کسی کو اپنے فضل و کرم سے کچھ بھی عطا نہیں کر سکتا بلکہ ہر ایک شخص کو وہی ملتا ہے جو اُس کے اعمال کے نتائج ہیں پھر ایسے خدا کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے ۔ غرض ایسا خدا ماننے والے کو سخت شرمندہ ہونا پڑے گا۔ یہ عیسائیوں کے نزدیک خدا کا تصور ایسا ہی عیسائی بھی جب یہ پیش کریں گے کہ ہمارا خدا یسوع ہے اور پھر اُس کی نسبت وہ یہ بیان کریں گے کہ یہودیوں کے ہاتھوں سے اُس نے ماریں کھائیں ۔ شیطان اُسے آزما تا رہا۔ بھوک