ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 188

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد اول بالمقابل ہے کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اے رحیم خاص سے دُعاؤں کے قبول کرنے والے ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا جنھوں نے دعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ سے معرفت تامہ کو پہنچے ۔ رحیمیت کے مفہوم میں نقصان کا تدارک کرنا لگا ہوا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اگر فضل نہ ہوتا تو نجات نہ ہوتی ۔ ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپ کا بھی یہی حال ہے۔ آپؐ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا۔ ہاں۔ نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نافہمی اور نا واقفی کی وجہ سے اعتراض کئے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کر رہا تھا۔ ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے اور متعدد مرتبہ آزمایا ہے بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلیل کی حالت انتہا کو پہنچی ا ہے اور ہماری روح اس معبودیت اور فروتنی میں بہہ نکلتی ہے اور آستانہ حضرت واہب العطایا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک نالی کے ذریعہ سے مصفا پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار و برکات پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اسی قدر آپ روح القدس کی تائید اور روشنی سے مؤید اور منور ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہاں تک کہ آپؐ کے انوار و برکات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اسی کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہورہا ہے وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کی اتباع سے ملتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا