ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 185

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۵ جلد اول ا سرور بخش کیفیت ہے کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میں کن الفاظ میں اس لذت اور سرور کو دنیا کو سمجھاؤں ۔ یہ تو محسوس کرنے ہی سے پتا لگے گا ۔ مختصر یہ کہ دعا کے لوازمات سے اول ضروری یہ ہے کہ اعمال صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں کیونکہ کیونکہ جو جو شخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا اور دعا کرتا ہے وہ گویا خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ تو بات یہ ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں یہ مقصود ہے کہ ہمارے اعمال کو اکمل اور اتم کر اور پھر یہ کہ کر کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور بھی صراحت کر دی کہ ہم اس صراط کی ہدایت چاہتے ہیں جو منعم علیہ گروہ کی راہ ہے اور مغضوب گروہ کی راہ سے بچا جن پر بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب الہی آگیا اور الضالین کہہ کر یہ دعا تعلیم کی کہ اس سے بھی محفوظ رکھ کہ تیری حمایت کے بڑوں بھٹکتے پھریں۔ ایک اور بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس جگہ لف و نشر مرتب ہے۔ اول الْحَمْدُ لِلهِ الله تجمع جمیع صفات کاملہ، ہر ایک خوبی کو اپنے اندر رکھنے والا اور ہر ایک عیب اور نقص سے منزہ ۔ دوم رب الْعَلَمِينَ - سوم الرَّحْمنِ - چهارم الرَّحِيمِ - پنجم مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ ۔ اب اس کے بعد جو درخواستیں ہیں وہ ان پانچوں کے ماتحت ہیں۔ اب سلسلہ یوں شروع ہوتا ہے ۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ۔ یہ فقرہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کے مقابل ہے۔ یعنی اے اللہ تو جو ساری صفات حمیدہ کا جامع ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ مسلمان اس خدا کو جانتا ہے جس میں وہ تمام خوبیاں جو انسانی ذہن میں آسکتی ہیں موجود ہیں اور اس سے بالاتر اور بالاتر ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسانی عقل اور فکر اور ذہن خدا تعالیٰ کی صفات کا احاطہ ہرگز ہرگز نہیں کر سکتے ۔ ہاں تو مسلمان ایسے کامل الصفات خدا کو مانتا ہے۔ تمام قو میں مجلسوں میں اپنے خدا کا ذکر کرتے ہوئے ہندوؤں کے نزد یک خدا کا تصور شرمندہ ہوجاتی ہیںاور انہیں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ مثلاً ہندوؤں کا خدا جو اُ نہوں نے مانا ہے اور کہا ہے کہ ویدوں سے ایسے خدا ہی کا پتا لگتا ہے ۔ جب اس کی نسبت وہ یہ ذکر کریں گے کہ اُس نے دنیا کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اس نے روحوں کو