ملفوظات (جلد 1) — Page 169
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد اول اس کے اعضاء ہو جاتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اُس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ حتی کہ اُس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بولتا جب انسان جذبات نفس سے پاک ہو جاتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے اس کا کوئی فعل نا جائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا کے منشا کے موافق ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ اُسے اپنا فعل ہی قرار دیتا ہے۔ یہ ایک مقام ہے قرب الہی کا جہاں پہنچ کر سلوک کی منزلوں کو پورے طور پر طے نہ کرنے والوں نے یا تو ٹھو کر کھائی ہے یا الہیات سے نا واقف اور قرب الہی کے مفہوم کو نہ سمجھنے والوں نے غلط فہمی سے کام لیا ہے اور وحدت وجود کا مسئلہ گھڑ لیا ہے۔ اس بات کو بھی ہرگز بھولنا نہ چاہیے کہ جہاں انسان ابتلا میں پڑتا ہے وہ فعل خدا کے ارادہ سے موافق نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ کی رضا اُس کے خلاف ہوتی ہے۔ ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے ہوتا ہے نہ کہ منشائے الہی کے ماتحت لیکن وہ انسان جو اللہ کا ولی کہلاتا ہے اور خدا جس کی زندگی کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ وہ ہوتا ہے جس کی کوئی حرکت و سکون بلا استصواب کتاب الہی نہیں ہوتی ۔ وہ اپنی ہر بات اور ارادہ پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔ پھر آگے کہا ہے کہ اُس کی جان نکالنے میں اللہ تعالیٰ کو بڑا تر ود ہوتا ہے۔ اللہ تعالی تردد سے پاک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مصلحت کے لیے اُس کو موت دی جاتی ہے اور ایک عظیم مصلحت کے لئے اس کو دوسرے جہان میں لے جایا جاتا ہے۔ نہیں تو اُس کی بقا خدا کو بڑی پیاری لگتی ہے۔ پس اگر انسان کی ایسی زندگی نہیں کہ خدا تعالیٰ کو اُس کی جان لینے میں بھی تردد ہو تو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے۔ ایک بکری سے بہت سے آدمی گزارہ کر سکتے ہیں اور اس کا چمڑہ بھی کام آسکتا ہے۔ اور انسان کسی حالت میں کیا مر کر بھی کام نہیں آتا مگر صالح آدمی کا اثر اس کی ذریت پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ در حقیقت وہ مرتا ہی نہیں مرنے پر بھی اس کو ایک نئی زندگی دی جاتی ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا ہے کہ میں بچہ تھا، بوڑھا ہوا ۔ میں نے کسی خدا پرست کو ذلیل حالت میں نہیں دیکھا اور نہ اُس کے لڑکوں کو دیکھا کہ وہ ٹکڑے مانگتے ہوں، گو یا مشقی کی اولاد کا بھی خدا تعالیٰ ذمہ دار ہوتا ہے لیکن