ملفوظات (جلد 1) — Page 170
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۰ جلد اول حدیث میں آیا ہے کہ ظالم اپنے اہل و عیال پر بھی ظلم کرتا ہے کیونکہ ان پر بھی اس کا بداثر پڑتا ہے۔ پس کس قدر ضرورت ہے کہ تم اس بات کو سمجھ لو کہ انسانی پیدائش کی غرض عبادت ہے تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالی کی غرض یہ ہے ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ ۔ دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔ میں اس لئے بار بار اس ایک امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے جس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔ بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشا نہیں ۔ اسلام تو انسان کو چست اور ہوشیار اور مُستعد بنانا چاہتا ہے اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کا تردد نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہوگا ۔ پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جائے وہ غلطی کرتا ہے۔ نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہوا اور اُس کے ارادہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرے۔ لے پس اگر انسان کی زندگی کا مدعا یہ ہو جائے کہ وہ صرف تنعم ہی میں زندگی بسر کرے اور اس کی ساری کامیابیوں کی انتہا خوردونوش اور لباس و خواب ہی ہوا اور خدا تعالیٰ کے لئے کوئی خانہ اُس کے دل میں باقی نہ رہے تو یہ یا درکھو ایسا شخص فطرہ اللہ کا مقلب ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رفتہ رفتہ اپنے قومی کو بیکار کر لے گا۔ یہ صاف بات ہے کہ جس مطلب کے لئے کوئی چیز ہم لیتے ہیں اگر وہ وہی کام نہ دے تو اُسے بیکار قرار دیتے ہیں۔ مثلاً ایک لکڑی کرسی یا میز بنانے کے واسطے لیں اور وہ اس کام کے نا قابل ثابت ہو تو ہم اُسے ایندھن ہی بنالیں گے۔ اسی طرح پر انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بیکار کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس کی پروا نہیں کرتا۔ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے قُلْ مَا يَعْبَوا الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ را گست ۱۹۰۱ صفحه ۲۰۱