ملفوظات (جلد 1) — Page 168
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۸ جلد اول تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد: (۱۳) مگر دیکھو اگر ایک بیل چارہ تو کھالے لیکن ہل چلانے کے وقت بیٹھ جائے اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یہی ہوگا کہ زمیندار اسے بو چڑ خانے میں جا کر بیچ دے گا۔ اسی طرح ان لوگوں کی نسبت ( جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی یا پروانہیں کرتے اور اپنی زندگی فسق و فجور میں گزارتے ہیں ) فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان: ۷۸) یعنی میرا رب تمہاری کیا پروا کرتا ہے اگر تم اُس کی عبادت نہ کرو۔ یہ امر بحضور دل یا درکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے محبت کی ضرورت ہے اور محبت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک محبت تو ذاتی ہوتی ہے اور ایک اغراض سے وابستہ ہوتی ہے یعنی اس کا باعث صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں جن کے دور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہو کر رنج اور غم کا باعث ہو جاتی ہے مگر ذاتی محبت سچی راحت پیدا کرتی ہے ۔ چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : ۵۷) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اُسے اپنے لئے بنایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو مگر جو لوگ اپنی اس اصلی اور فطری غرض کو چھوڑ کر حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کی غرض صرف کھانا پینا اور سور ہنا ہو جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور جا پڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذمہ داری اُن کے لئے نہیں رہتی ۔ وہ زندگی جو ذمہ داری کی ہے یہی ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ پر ایمان لاکر زندگی کا پہلو بدل لے۔ موت کا اعتبار نہیں ہے۔ سعدی کا شعر سچا ہے۔ - مگن تکیه بر عمر ناپائدار مباش ایمن از بازی روزگار عمیر نا پائدار پر بھروسہ کرنا دانش مند کا کام نہیں ہے۔ موت یونہی آکر لتاڑ جاتی ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں لگتا جب کہ انسان اس طرح پر موت کے پنجہ میں گرفتار ہے۔ پھر اُس کی زندگی کا خدا تعالیٰ کے سوا کون ذمہ دار ہو سکتا ہے؟ خدا ہو وہ کرے خدا کے لیے زندگی اگر زندگی دا کے لئے ہو تو وہ اسکی حفاظت کرے گا۔ بخاری میں ایک حدیث ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے محبت کا رابطہ پیدا کر لیتا ہے خدا تعالیٰ