ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 149

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۹ جلد اول میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح تمہاری روح کے ارادے اور جذ بے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں ۔ او عصمت انبیاء کا یہی راز ہے یعنی نبی کیوں معصوم ہوتے ہیں؟ تو اس کا یہی جواب ہے کہ وہ استغراق محبت الہی کے باعث معصوم ہوتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب ان قوموں کو دیکھتا ہوں جو شرک میں مبتلا ہیں جیسے ہندو جو قسم قسم کے اصنام کی پرستش کرتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عورت اور مرد کے اعضاء مخصوصہ تک کی پرستش بھی جائز کر رکھی ہے اور ایسا ہی وہ لوگ جو ایک انسانی لاش یعنی یسوع مسیح کی پرستش کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ مختلف صورتوں سے حصولِ نجات یا مکتی کے قائل ہیں مثلاً اول الذکر یعنی ہندو گنگا ایشان اور تیرتھ یاترا اور ایسے ایسے کفاروں سے گناہ سے موکش چاہتے ہیں اور عیسی پرست عیسائی مسیح کے خون کو اپنے گناہوں کا فدیہ قرار دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک نفس گناہ موجود ہے وہ بیرونی صفائی اور خارجی معتقدات سے راحت یا اطمینان کا ذریعہ کیوں کر پاسکتے ہیں جب تک اندر کی صفائی اور باطنی تطہیر نہیں ہوتی نا ممکن ہے کہ انسان سچی پاکیزگی اور طہارت جو انسان کو نجات سے ملتی ہے پاسکے۔ ہاں اس سے ایک سبق لوجس طرح پر دیکھو بدن کی میل اور بد بو ہدوں صفائی کے دور نہیں ہو سکتی اور جسم کو اُن آنے والے خطرناک امراض سے بچا نہیں سکتی اسی طرح پر روحانی کدورات اور میل جو دل پر نا پاکیوں اور قسم قسم کی بے باکیوں سے جم جاتی ہے دور نہیں ہو سکتی جب تک تو بہ کا مصفا اور پاک پانی نہ دھوڈالے۔ جسمانی سلسلہ میں ایک فلسفہ جس طرح پر موجود ہے اس طرح پر روحانی سلسلہ میں ایک فلسفہ رکھا ہوا ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس پر غور کرتے ہیں اور سوچتے ہیں۔ گناہ کی حقیقت اور اس سے بچنے کے ذرائع میں اس مقام پر یہ بات بھیجتا نا چاہتا ہوں کہ گناہ کیوں کر پیدا ہوتا ہے؟ اس الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ء صفحه ۳ تا۷