ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 148

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ٧ جلد اول کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے کاروبار کا متولی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: ۱۹۷) اللہ تعالیٰ ان کو مامور کر دیتا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو دوسروں کے ذریعہ سے ظاہر کریں۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف مقامات پر مدد کا وعظ کرتے تھے اس لئے کہ وہ وقت نصرت الہی کا تھا۔ اُس کو تلاش کرتے تھے کہ وہ کس کے شامل حال ہوتی ہے۔ یہ ایک بڑی غور طلب بات ہے ۔ دراصل مامور من اللہ لوگوں سے مدد نہیں مانگتا بلکہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ (الصف: ۱۵) کہہ کر وہ اُس نصرت اللہ کا استقبال کرنا چاہتا ہے اور ایک فرطِ شوق سے بے قرار دل کی طرح اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ نادان اور کو تہ اندیش لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مدد مانگتا ہے بلکہ اسی طرح پر اس شان میں وہ کسی دل کے لئے جو اس نصرت کا موجب ہوتا ہے ایک برکت اور رحمت کا موجب ہوتا ہے۔ پس مامور من اللہ کی طلب امداد کا اصل سر اور راز یہ ہی ہے جو قیامت تک اسی طرح پر رہے گا ۔ اشاعت دین میں مامور من اللہ دوسروں سے مدد چاہتے ہیں ۔ مگر کیوں؟ اپنے ادائے فرض کے لئے تا کہ دلوں میں خدا تعالیٰ کی عظمت پیدا کرے ورنہ یہ تو ایک ایسی بات ہے کہ قریب یہ کفر پہنچ جاتی ہے۔ اگر غیر اللہ کو متوتی قرارد قرار دیں اور ان نفوس قدسیہ سے ایسا امکان محال مطلق ہے۔ میں نے ابھی کہا ہے کہ توحید تب ہی پوری ہوتی کہ کل مرادوں کا معطی اور تمام امراض کا چارہ اور مداوا وہی ذات واحد ہو۔ لا اله الا اللہ کے معنی یہی ہیں۔ صوفیوں نے اس میں اللہ کے لفظ سے محبوب، مقصود، معبود مراد لی ہے۔ بے شک اصل اور سچ یوں ہی ہے جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہوتا اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی اور پھر میں اصلی ذکر کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ نماز کی لذت اور سرورا سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بڑے ارادے، نا پاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں، انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کا ملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔