ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 150

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۰ جلد اول سوال کا جواب عام فہم الفاظ میں یہی ہے کہ جب غیر اللہ کی محبت انسانی دل پر مستولی ہوتی ہے تو وہ اس مصفا آئینہ پر ایک قسم کا زنگ سا پیدا کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ بالکل تاریک ہو جاتا ہے اور غیریت اپنا گھر کر کے اسے خدا سے دور ڈال دیتی ہے اور یہی شرک کی جڑ ہے لیکن جس قلب پر اللہ تعالیٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اپنا قبضہ کرتی ہے وہ غیریت کو جلا کر اسے صرف اپنے لئے منتخب کر لیتی ہے پھر اس میں ایک استقامت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اصل جگہ پر آجاتی ہے۔ عضو کے ٹوٹنے اور پھر پڑھنے میں جس طرح سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ٹوٹا ہوا عضو کہیں زیادہ تکلیف دیتا ہے جو اسے صرف مکرر چڑھنے سے عارضی طور پر ہوتی ہے اور پھر ایک راحت کا سامان ہو جاتی ہے لیکن اگر وہ عضو اسی طرح ٹوٹا رہے تو ایک وقت آجاتا ہے کہ اس کو بالکل کاٹنا پڑتا ہے اسی طرح سے استقامت کے حصول کے لیے اولاً ابتدائی مدارج اور مراتب پر کسی قدر تکلیف اور مشکلات بھی پیش آتی ہیں لیکن اس کے حاصل ہونے پر ایک دائمی راحت اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ ارشاد ہوا فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ (هود : ۱۱۳) تو لکھا ہے کہ آپ کے کوئی سفید بال نہ تھا پھر سفید بال آنے لگے تو آپ نے فرمایا مجھے سورہ ھود نے بوڑھا کر دیا۔ غرض یہ ہے کہ جب تک انسان موت کا احساس نہ کرے وہ نیکیوں کی طرف جھک نہیں سکتا۔ میں نے بتلایا ہے کہ گناہ غیر اللہ کی محبت دل میں پیدا ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ دل پر غلبہ کر لیتا ہے ۔ پس گناہ سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ انسان موت کو یاد رکھے اور خدائے تعالیٰ کے عجائبات قدرت میں غور کرتا رہے کیونکہ اس سے محبت الہی اور ایمان بڑھتا ہے اور جب خدائے تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے تو وہ گناہ کو خود جلا کر بھسم کر جاتی ہے۔ دوسرا ذریعہ گناہ سے بچنے کا احساسِ موت ہے ۔ اگر انسان موت کو اپنے سامنے رکھے تو وہ ان بدکاریوں اور کوتاہ اندیشیوں سے باز آجائے اور خدا تعالیٰ پر اسے ایک نیا ایمان حاصل ہو اور اپنے سابقہ گناہوں پر تو بہ اور نادم ہونے کا موقع ملے ۔ انسان عاجز کی ہستی کیا ہے؟ صرف ایک دم پر انحصار ہے۔ پھر کیوں وہ آخرت کا فکر نہیں کرتا اور موت سے نہیں ڈرتا اور نفسانی اور حیوانی جذبات کا مطیع