ملفوظات (جلد 1) — Page 147
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۷ جلد اول مطلوب ہے۔ اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ ٹیں ٹیں سے کم نہیں ہے۔ پھر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اسباب کی رعایت ضروری نہیں ہے؟ یہ ایک غلط نہی ہے۔ شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں؟ یا اسباب دعا نہیں؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ۔ انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی رہنما ہے ۔ جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى ( المائدة : ٣) کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے ۔ ہاں ! میں کہتا ہوں کہ تلاش اسباب بھی بذریعہ دعا کرو !!! امداد باہمی ۔ میں نہیں سمجھتا کہ جب میں تمہیں تمہارے جسم کے اندر اللہ تعالیٰ کا ایک قائم کردہ سلسلہ اور کامل رہنما سلسلہ دکھاتا ہوں ، تم اس سے انکار کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے۔ مگر پھر بھی ایک وقت اُن پر آتا ہے کہ وہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ (الصف: ۱۵) کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایک ٹکڑ گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ نہیں ۔ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان ، اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيُوةِ الدنيا (المؤمن : ۵۲) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے۔ ما مور من اللہ کی طلب امداد کا سر اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وی پاک ذات ہے، جس کی شان نِعْمَ الْمَوْلَى وَ نِعْمَ النَّصِيرُ وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ ۔ دنیا اور دنیا کی مددیں اُن لوگوں کے سامنے گالمیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے