ملفوظات (جلد 1) — Page 146
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد اول ترک نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جھکتا ہے تو روح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح ( جس کی شاخیں ابتداء ایک طرف کر دی جاویں اور اُس طرف جھک کر پرورش پالیس) ادھر ہی جھکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہو کر اُسے منجمد اور پتھر بنا دیتا ہے جیسے وہ شاخیں۔ پھر دوسری طرف مڑا نہیں سکتا۔ اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خدا تعالیٰ سے دور ہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک اور دل کو کپکپا دینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے سوال کرے۔ اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خود آ جاتا ہے جب کہ انقطاع کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔ میں اس امر کو پھر تاکید سے کہتا ہوں۔ افسوس ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں ملے جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کر سکوں ۔ لوگوں کے پاس جا کر منت و خوشامد کرتے ہیں ۔ یہ بات خدا تعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُور پھینک دیتا ہے۔ میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد غیور کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکار عورت کو واجب القتل سمجھتا بلکہ بسا اوقات ایسی وارداتیں ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔ عبودیت اور دعا خاص اسی ذات کے مدِ مقابل ہیں ۔ وہ پسند نہیں کر سکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکارا جاوے۔ پس خوب یاد رکھو! اور پھر یاد رکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے۔ نماز اور توحید کچھ ہی کہو کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے اس وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو۔ سُنو ! وہ دعا جس کے لئے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ رعایت اسباب دعا کا شعبہ ہے (المؤمن:(7) فرمایا ہے اس کے لئے یہی سچی روح