ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 145

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۵ جلد اول صلوٰۃ ہے۔ پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے ۔ جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنكبوت: ۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں، نہیں اُس کے شمع دان دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر گناہ کا خیال اُسے آکیوں کر سکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض اسے ایسی لذت، ایسا سرور حاصل ہوتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ اُسے کیوں کر بیان کروں۔ غیر اللہ کی طرف رجوع پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیر اللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے کیونکہ یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اُسی سے نہ مانگے سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں ۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی ، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں ۔جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سے گلوں کو چلاتا ہے پس اسی طور پر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت و سکون کو اسی انجن کی طاقت عظمی کے ماتحت نہ کر لیوے وہ کیوں کر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہو سکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ (الانعام : ٨٠) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے منہ سے کہتا ہے ویسے ہی ادھر کو متوجہ ہو تو لا ریب وہ وه مسلم ہے ۔ وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالی کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھر بھی جھکتا ہے وہ یاد رکھے کہ بڑا ہی بد قسمت اور محروم ہے کہ اُس پر وہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھک سکے ۔