ملفوظات (جلد 1) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد اول کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ ہے اور سجدہ کمال ادب اور کمال تدلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔ علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں ( جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے ) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں اور اسے ایک بار گراں سمجھ کر اُتار پھینکنے کی کوشش کی جاوے تو تم ہی بتلاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے؟ اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اُس کی حقیقت کیونکر محقق ہوگی اور یہ اُس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہء اُلوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے رُوح بھی بولے ۔ اُس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔ میں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدر مراتب طے کر کے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ ۔ پھر نطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ پھر جوان ، بوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معترف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے تو بھی وہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مد مقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ غرض مدعا یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ بالعدم قرار دے کر جور بوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اُس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔ سچی نماز اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی۔ اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اُسے انقطاع تام ہو جاتا ہے۔ اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اُوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام