ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 96

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۶ جلد اول اے انسانی دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور ایک حیرت ناک عذاب اور درد میں مبتلا کر دیتی ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بالکل سچی اور یقینی بات ہے کہ نفس مطمئنہ کے بدوں انسان نجات نہیں پاسکتا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان کا غلام ہوتا ہے اور لوامہ میں اسے شیطان سے ایک مجاہدہ اور جنگ کرنا ہوتا ہے۔ کبھی وہ غالب آ جاتا ہے اور کبھی شیطان مگر مطمئنہ کی حالت ایک امن اور آرام کی حالت ہوتی ہے کہ وہ آرام سے بیٹھ جاتا ہے۔ اس لئے اس آیت میں کہ یايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ( الفجر : ۲۸) یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آخری حالت میں کس قدر استراحت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے نفس مطمئنہ اللہ کی طرف چلا آ ۔ ظاہر کے لحاظ سے تو یہ مطلب ہے کہ جان کندن کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے کہ مطمئن نفس ! اپنے رب کی طرف چلا آ ۔ وہ تجھ سے خوش ہے اور تو اس سے راضی ۔ چونکہ قرآن کے لئے ظاہر اور باطن دونوں ہے۔ اس لئے باطن کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اے اطمینان پر پہنچے ہوئے نفس اپنے رب کی طرف چلا آ ۔ یعنی تیری طبعاً یہ حالت ہو چکی ہے کہ تو اطمینان اور سکینت کے مرتبہ پر پہنچ گیا ہے اور تجھ میں اور اللہ تعالیٰ میں کوئی بعد نہیں ہے۔ لوامہ کی حالت میں تو تکلیف ہوتی ہے مگر مطمئنہ کی حالت میں ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پانی اوپر سے گرتا ہے۔ اسی طرح پر خدائے تعالیٰ کی محبت انسان کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہے اور وہ خدا ہی کی محبت سے جیتا ہے۔ غیر اللہ کی محبت جو اس کے لئے ایک جلانے اور جہنم کے پیدا کرنے والی ہوتی ہے جل جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر دیا جاتا ہے۔ اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اس کا منشا ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی محبت ایسی حالت میں اس کے لئے بطور جان ہوتی ہے جس طرح زندگی کے لئے لوازم زندگی ضروری ہیں اس کی زندگی کے لئے خدا اور صرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ہی اس کی سچی خوشی اور پوری راحت ہوتا ہے۔ انسانی ہستی کا مدعا نفس مظمیہ کی یہ شانی ہے کہ کس خارجی تحریک کے بدوں ہی وہ ایسی صورت پکڑ جاتا ہے کہ خدا کے بدوں رہ نہیں سکتا اور یہی انسانی ہستی کا