ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 95

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۵ جلد اول کو پیدا کرتی ہیں۔ استسقاء کے مریض کی طرح ان کی پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیتی ہے مگر یہاں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وہ نفس جس نے اپنا اطمینان خدائے تعالیٰ میں حاصل کیا ہے یہ درجہ بندے کے لئے ممکن ہے اس وقت اس کی خوشحالی با وجود مال و منال کے دنیاوی حشمت اور جاہ و جلال کے ہوتے ہوئے بھی خدا ہی میں ہوتی ہے۔ یہ زر و جواہر، یہ دنیا اور اس کے دھندے اس کی سچی راحت کا موجب نہیں ہوتے ۔ پس جب تک انسان خدائے تعالیٰ ہی میں راحت اور اطمینان نہیں پاتا وہ نجات نہیں پا سکتا کیونکہ نجات اطمینان ہی کا ایک مترادف لفظ ہے۔ رو نفس مطمئنہ کے بغیر انسان نجات نہیں پاسکتا میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا بغیر پا اور اکٹروں کے حالات پڑھتے ہیں جو دنیا میں مال و دولت اور دنیا کی جھوٹی لذتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولا د احفاد رکھتے تھے۔ جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوں اور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑ کی اور سرد آہیں مارنے لگے۔ پس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا بلکہ اس کو گھبراہٹ اور بے قراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے۔ اس لئے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل و عیال اور اموال کی محبت ہاں نا جائز اور بے جا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے نا جائز کام کر گزرتا ہے جو اس میں اور خدائے تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے لئے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔ اس کو اس بات کا علم نہیں ہوتا جب وہ ان سب سے یکا یک علیحدہ کیا جاتا ہے اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی تب وہ ایک سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ کسی چیز سے جب محبت ہو تو اس سے جدائی اور علیحدگی پر ایک رنج اور دردناک غم پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اب منقولی ہی نہیں بلکہ معقولی رنگ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نَارُ اللهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ( الهمزة: ۷، ۸) پس یہ وہی غیر اللہ کی محبت کی آگ ہے جو