ملفوظات (جلد 1) — Page 97
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۷ جلد اول مدعا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ فارغ انسان شکار ، شطرنج ، گنجفہ وغیرہ اشغال اپنے لئے پیدا کر لیتے ہیں مگر مطمئنہ جبکہ نا جائز اور عارضی اور بسا اوقات رنج اور کرب پیدا کرنے والے اشغال سے الگ ہو گیا ۔ اب الگ ہو کر منقطع عالم اسے کیوں یاد آوے۔ اس لئے خدا ہی سے محبت ہو جاتی ہے۔ یہ امر بھی دل سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ محبت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ذاتی محبت ہوتی ہے اور ایک محبت اغراض سے وابستہ ہوتی ہے یا یہ کہو کہ اس کا باعث صرف چند عارضی باتیں ہوتی ہیں جن کے دور ہوتے ہی وہ محبت سرد ہو کر رنج اور غم کا باعث ہو جاتی ہے مگر ذاتی محبت سچی راحت پیدا کرتی ہے۔ چونکہ انسان فطرتاً خدا ہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور اپنے پوشیدہ اور مخفی در مخفی اسباب سے اسے اپنے لئے بنا یا ہوا ہے ۔ پس جب انسان جھوٹی اور نمائشی ہاں عارضی اور رنج پر ختم ہونے والی محبتوں سے الگ ہو جاتا ہے پھر وہ خدا ہی کے لئے ہو جاتا ہے اور طبعاً کوئی بعد نہیں رہتا اور خدا کی طرف دوڑا چلا آتا ہے۔ پس اس آیت يا يتهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ خدائے تعالیٰ کا آواز دینا یہی ہے کہ درمیانی حجاب اٹھ گیا اور بعد نہیں رہا۔ یہ شقی کا انتہائی درجہ ہوتا ہے جب وہ اطمینان اور راحت پاتا ہے۔ دوسرے مقام پر قرآن شریف نے اس اطمینان کا نام فلاح اور استقامت بھی رکھا ہے اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اسی استقامت یا اطمینان یا فلاح کی طرف لطیف اشارہ ہے اور خود مستقیم کا لفظ بتلا رہا ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔ اصل بات یہ ہے معجزات یه چی بات کہ وہ خلق اسباب کرتا ہے خواہ ہم کو ان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہو الغرض اسباب دو ضرور ہوتے ہیں۔ اس لئے شق القمر يا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلما“ (الانبیاء:۷۰) کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں بلکہ وہ بھی بعض مخفی در مخفی اسباب کے نتائج ہیں اور سچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں۔ کو تاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اسے نہیں سمجھ سکتے ۔ مجھے تو یہ حیرت آتی ہے کہ جس حال میں یہ ایک امر مسلم ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا تو نادان فلاسفر کیوں ان اسباب کی