ملفوظات (جلد 10) — Page vi
آگے پیچھے، دائیں بائیں اپنے حصول مقصد کے لئے رواں دواں ہوتے تھے۔ آخر یہ قدسی صفات شخصیتیں ظلی اور بروزی طور پر اس ارشاد ربانی کا مصداق بن کر وہ آسمانی نام پاگئے جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں فرمایا گیا ہے مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلِ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (ق) آیت (۱۹) لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللهِ (رع) آیت (۱۲) اور صفحات تاریخ میں ان ال قدوسیوں کا ذکر خیر معہ آسمانی نام کے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔ ع ثبت است بر جریدہ عالم دوام شاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات تازگی ایمان اور تربیت اخلاق کے لئے بہترین بدرقہ اور رہنما ہیں جن کے پڑھنے سے حضرت اقدس کی مجالس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور وہ گیف و وجد جو حضور کی صحبت میں حاضرین مجلس کے دلوں میں پیدا ہوتا تھا۔ آج بھی حضور کے ملفوظات کے پڑھنے سے وہی وجدانی کیفیت علی حسب مراتب پڑھنے والوں پر طاری ہو جاتی ہے بشرطیکہ دلی توجہ و خلوص اور پورے انہماک سے مطالعہ کیا جائے اور اپنے آپ کو ان ہدایات و نصائح کا پابند بننے کی کوشش کی جائے جس کی طرف حضور جماعت کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ ۔۔۔۔۔ میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا ۔ ۔۔۔۔۔ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو۔ سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صاف ہو جاوے۔ نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجہ سے نکل کر خدا کی رضا میں محو ہو جاویں ۔ حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔ دین کے واسطے اور اشاعت دین کے لیے ان میں ایک تڑپ پیدا ہو جاوے اپنی خواہشات اور ارادوں ، آرزؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں “ ( ملفوظات جلد دہم صفحہ ۱۱۹) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ حضور کی منشاء کے مطابق ہم اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھال لیں 66