ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page v of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page v

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظاتِ طیبہ کی یہ دسویں اور آخری جلد ہے جو حضور علیہ السلام کی حیات قدسیہ کے ان آخرین کلمات طیبہ پر اختتام پذیر ہوئی ہے جبکہ حضور کی مقدس روح اپنے قفس عنصری کو چھوڑتے ہوئے اپنے پیارے محبوب آقا کی طرف پرواز کرنے کو طیار تھی ۔ یہ جلد نومبر ۱۹۰۷ ء سے لے کر ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء تک کے پاکیزہ ملفوظات پر مشتمل ۔ اس جلد کی ترتیب و تدوین بھی حسب سابق محترم مولانا محمد اسماعیل صاحب دیا لگڑھی کی محنت شاقہ ہے۔ اور مساعی جمیلہ کا زریں نتیجہ ہے ۔ فَجَزَاهُ اللهُ تَعَالٰی أَحْسَنَ الْجَزَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - حضرت مسیح موعود علیہ السلام جری اللہ فی حُلل الانبیاء کی پاک صحبت جو روحانی مُردوں کو حیات جاودانی بخشنے کے لئے دم مسیحائی کا اثر رکھتی تھی اور روحانی فیض پانے والوں کے لئے صور اسرافیل کا کام دے رہی تھی ۔ حضور کی ان مقدس صحبتوں اور مجالس قدسیہ کے نتائج کا ظہور صرف انہی شخصیتوں کے لئے مخصوص نہیں تھا جو حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر براہ راست فیضیاب ہور ہے تھے بلکہ اس کا دائرہ اس محدود وقت سے وسیع تر اور اعم واتم تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی مقدر تھا کہ آپ کے فیوض و برکات کے دریائے بیکراں سے پیچھے آنے والی نسلیں بھی ویسی ہی مستفیض اور سیراب ہوں جیسے حضور کی صحبت میں آنے والوں کے لئے اس کا فیضان عام تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس کو ایسے پاک طینت قدوسی حوار یان مسیح بھی مہیا فرما دیئے جن کے قلوب زکیہ میں یہ جذبہ اور شوق اس حد تک بھر دیا گیا تھا جو عشق و جنون کی حد تک پہنچ چکا تھا کہ کسی طرح حضور کے ان مربیانہ کلمات طیبات اور ملفوظات کو قلمبند کر کے ہمیشہ کے لئے محفوظ و مصون کر دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی لاکھوں لاکھ رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ان نفوس مقدسہ پر جنہوں نے حضور کے ان تمام پاکیزہ کلمات اور ملفوظات کو تحریری صورت میں محفوظ کر دینے کے لئے اس حد تک محنت شاقہ کی کہ اس کام میں دن رات ایک کر دیا۔ یہ مقدس وجود جو ہر وقت حضرت اقدس کے