ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 396

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۶ جلد دہم خدا نے جس بات پر ہمیں قائم کیا ہے وہ یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات اللہ تعالی نے اپنی کلام مجید میں حضرت مسیح کی موت کو صراحت سے ایک نہیں بلکہ بیسیوں مقام پر ظاہر کر دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلا وسلم نے اپنے فعل سے شہادت دے دی کہ اس کو مردوں کی ذیل میں دیکھا اور کوئی ما بہ الامتیاز اس میں اور اس کے غیروں میں بیان نہیں فرمایا۔ آج ہندوستان میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ مرتد صرف اسی بات سے ہو چکا ہے کہ نام کے مسلمانوں کے عقائد غلط سے عیسائیوں نے مسیح کی فضیلت ثابت کر کے اپنے مذہب سے نا واقف لوگوں کے سامنے اسے پیش کیا اور ان کے اپنے ہی معتقدات میں سے ان پر ایسے ایسے الزام دیئے جن کا جواب ان میں سے کسی سے بھی بن نہ پڑا۔ مگر یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کسی بھی خصوصیت کو قائم نہیں رہنے دیا بلکہ ان کی ہر بات کا جواب دے کر خودان کو ہی خوار کیا ہے۔ نصاری نے ایک عقیدہ پکڑا تھا کہ حضرت عیسی چونکہ بن باپ کے ہیں لہذا یہ خصوصیت ان کی خدائی کی پختہ دلیل ہے اور یہ ان کا مسلمانوں پر ایک بھاری اعتراض تھا اور اس سے وہ حضرت عیسی میں ایک خصوصیت ثابت کر کے ان کی خدائی کی دلیل پکڑتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں ان کا یوں منہ توڑا۔ اور ان کا رڈ یوں بیان کیا کہ اِنَّ مَثَلَ عِيسَی عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ ( آل عمران : ٦٠ ) یعنی اگر حضرت عیسی کی پیدائش اعجازی رنگ میں پیش کر کے تم اس کی خدائی کی دلیل ٹھہراتے ہو تو پھر آدم بطریق اولی خدا ہونا چاہیے کیونکہ اس کا نہ باپ نہ ماں ۔ اس طرح سے اول آدم کو بڑا خدا و مان لو پھر اس بات کو عیسی کی خدائی کی دلیل ٹھہرانا۔ پس اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس استدلال کو غلط ثابت کر دیا ۔ غرض نصاری کے مسیح کو بن باپ کی پیدائش سے ان کی خدائی کی دلیل اور استدلال پکڑنے کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی نظیر پیش کر کے باطل ٹھہرا دیا۔ ایک دوسری دلیل نصاری نے مسیح کی خدائی کی یہ پیش کی تھی کہ وہ زندہ ہیں اور معۂ جسم عنصری