ملفوظات (جلد 10) — Page 397
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۷ جلد دہم آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھے ہیں اور اس امر سے انہوں نے مسیح کی ایک خصوصیت ثابت کر کے اسی کو ان کی خدائی کی ایک زبردست دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اب ہمیں کوئی بتادے کہ اگر توفی کے معنے مع جسم عنصری آسمان پر ہی اٹھائے جانے کے ہیں اور اس کے معنے حضرت عیسی کے لئے موت کے نہیں ہیں تو پھر نصاری کے اس اعتراض کا قرآن نے کہاں جواب دیا ہے؟ یا جس طرح ان کی دلیل اوّل کو ایک نظیر پیش کر کے توڑا تھا اسی طرح کہیں سے ہمیں یہ بھی نکال کر بتاؤ کہ حضرت مسیح سے پہلے یا پیچھے اور کوئی ایسی بھی نظیر پائی جاتی ہے؟ اور اگر کوئی نظیر نہیں تو یا درکھو کہ اسلام آج بھی گیا اور کل بھی گیا۔ نصاری تم کو خود تمہارے اپنے عقیدہ سے ملزم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم خود حضرت عیسی کو زندہ اور جسم عنصری سے آسمان پر مانتے ہو حالانکہ تمہارے رسول خاکِ مدینہ میں مدفون ہیں ۔ اب بتاؤ! کون افضل ہے عیسی یا محمد! افسوس ہے ان نام کے مسلمانوں پر کہ اپنی ناک کاٹنے کے واسطے آپ ہی دشمن کے ہاتھ میں چھری دیتے ہیں۔ یا د رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشا ہوتا اور قرآن وحدیث میں حقیقتاً یہی امر اس نے بیان کیا ہوتا کہ واقع میں حضرت مسیح زندہ ہیں اور وہ مع جسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں اور یہ عقیدہ بھی حضرت مسیح کے بن باپ کے پیدا ہونے کی طرح خدا کے نزدیک سچا عقیدہ ہوتا تو ضرور تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی کوئی نہ کوئی نظیر پیش کر کے قوم نصاری کو اس امر کے حضرت مسیح کی خدائی کی دلیل پکڑ نے سے بند اور لاجواب کر دیتا ۔ مگر خدا تعالیٰ کے اس امر کی دلیل پیش نہ کرنے سے صاف عیاں ہے کہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا ہرگز : ہرگز ہرگز یہ منشا نہیں جو تم محض افترا سے خدا کے کلام پر تھوپ رہے لے ہو بلکہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ نے محض موت ہی کے معنوں کے واسطے وضع کیا ہے اور یہی حقیقت اور اصل حال ہے۔ وہ لے بدر سے ۔ پس ایسا ہی زندہ آسمان پر موجود ہونے کو عیسائی دلیل ابن اللہ ہونے کی قرار دیتے ہیں اس کی مثال کیوں نہ بیان کی تا عیسی کسی بات میں وحدہ لاشریک نہ ٹھہرے۔ تم عیسیٰ کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی حیات ہے۔ ایسا ہی عیسی موسوی کی بجائے عیسی محمدی آنے دو کہ اس میں اسلام کی عظمت ہے۔ میں سچ کہتا ہوں اگر اسلام میں وحی والہام کا سلسلہ نہیں تو اسلام مر گیا ۔ ( بدر جلدے نمبر ۲۲ مورخه ۲ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ )