ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 395

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۹۵ جلد دہم میں نہیں سمجھتا کہ خدا کو ایسی کمزوری کی کیا ضرورت تھی۔ کیا وہ علی رؤس الا شہا د مسیح کو بچانے پر قادر نہ تھا کہ اس کو ایسا ظلم روا رکھنا پڑا۔ اور ایک بے گناہ انسان کی جان خواہ نخواہ ہلاکت میں ڈالی ؟ قرآن اور حدیث کے خلاف ایک نئی راہ نکال کر پیش کرنا اس کا بار ثبوت مدعی کے ذمے ہے۔ رڈ توفی کے معنی میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ یہ سب امور ایسے ہیں کہ آسانی سے ان کو رد کیا جاوے۔ قرآن شریف میں صرف لفظ توفی ہی کو لے کر اس کو دیکھ لو کہ بھلا کسی مقام پر اس کے معنی بجز موت کے کچھ اور بھی ہیں یا معہ جسم عنصری کے آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں؟ یہی توفی کا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت کریمہ إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس : ۴۷) پر غور کر کے دیکھ لو۔ پھر یہی توفی کا لفظ ہے جو حضرت یوسف کے حق میں وارد ہے ۔ پھر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ بر خلاف نص قرآنی کے اور تمام انبیاء کے کیوں حضرت عیسی کو یہ خصوصیت دی جاتی ہے؟ کتب احادیث میں قریباً تین سو مرتبہ یہی لفظ توفی کا آیا ہے مگر کہیں بھی بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے جانے کے معنے نہیں ہیں ۔ جہاں دیکھو یہ لفظ موت ہی کے معنوں میں وارد ہوتا ہے۔ وی وارد اصل میں جو شخص طالب حق نہیں اور محض ایک قسم کی شیخی اور تکبر کے واسطے ایسی خواہش کرتا کرتا ہے ہے اس سے مجھے بد بو آ جاتی ہے۔ میں ایسے آدمی پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ جس کو حق کی سچی پیاس نہیں اور جس کی تڑپ خدا اور خدا کے دین کے واسطے نہیں بلکہ نفس کا بندہ اور نفس کی عزت وجاہ کے واسطے مرتا ہے۔ میرے پاس اگر کوئی شخص طلب حق اور خدا جوئی کی پیاس اور سچی تڑپ لے کر آتا ہے تو مجھے اس سے ایک قسم کی خوشبو آ جاتی ہے اور پھر میں اس کے واسطے اپنے باز و بچھا دیتا دیتا ہوں اور اس کو اپنی آنکھوں سے قبول کرتا ہوں اور جہاں تک مجھ سے بن پڑتا ہے میں اس کی خدمت کو اپنا فخر سمجھتا ہوں مگر ایک نا پاک دل انسان جس میں شرارت پوشیدہ ہوتی ہے اور وہ حق جو نہیں بلکہ دنیا طلب ہوتا ہے تو ہمیں اس سے بد بو آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ہم اس سے کلام کرنا بھی پسند نہیں کرتے ۔