ملفوظات (جلد 10) — Page 350
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۰ جلد دہم آئی تھی ۔ اس کو زبردستی اور خواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لازما یہی نتیجہ ہو گا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی جس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہو سکے گی؟ اور یہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں۔ مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں، مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اور مکمل کتاب کے لانے والے کا دعوی ہے کہ اِنِّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا ( الاعراف : ۱۵۹) اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے لِانْذِرَكُم بِهِ وَ مَنْ بَلَغ (الانعام : ۲۰) یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کو اپنی گردن پر اٹھائے۔ انسانی فطرت کا پورا اور کامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔ اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہود ہے۔ جن کی تعلیمات ناقص اور خاص قوم تک محدود ہیں اور وہ آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں ۔ ان کی نبوت کا دروازہ بھی ان کے اپنے ہی گھر تک محدود ہے ۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) دیکھو! یہ کیسی پاک اور دل میں دخل کر جانے والی بات اور کیسا سچا اصول ہے مگر یہ لوگ ہیں کہ خدا کی خدائی کو صرف اپنے ہی گھر تک محدود خیال کرتے ہیں ۔ یہی حال آریوں کا ہے وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ وید ہی اتارا جاتا ہے اور صرف چار آدمی ہی اس کام کے واسطے مخصوص ہیں اور ہمیشہ کے واسطے زبان سنسکرت ہی خدا کو پسند آگئی ہے۔ مجال نہیں کہ خدا کی یہ نعمت وحی والہام کسی اور انسان یا زبان کو مل سکے۔ ان لوگوں کے اعتقاد کے موجب وحی الہی اب آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور اب ہمیشہ کے واسطے اس کو مہر لگ چکی ہے مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح سے تو خدا کی ہستی کے ثبوت میں ہی مشکلات پڑ جاویں گی۔ صرف شنید سے انسان کب مطمئن ہو سکتا ہے اور کامل یقین اور سچی معرفت صرف دوسروں کی زبانی