ملفوظات (جلد 10) — Page 349
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۹ جلد دہم یا درکھو کہ کل قوائے انسانی اسی خالق فطرت ہی کی طرف سے انسان کو ملے ہیں ۔ ان میں ایک قوت غضبی بھی ہے قوت انتقام بھی ہے۔ یہ قومی بے کار یا فضول نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی بد استعمالی اور ان کا بے محل و بے موقع استعمال بڑا ہے۔ انجیل میں تو ایک موقع پر خصی بن جانے کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔ اگر سچے عیسائی اس تعلیم کا عملی نمونہ بنتے تو یقین ہے کہ دنیا کا خاتمہ ہی ہو گیا ہوتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ صرف حکم ہی نہیں بلکہ اس عمل پر بڑے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ایسے کار خیر میں کوئی عیسائی بھی حصہ نہیں لیتا ؟ قرآن شریف میں کوئی دکھا تو دے کہ کوئی ایسا حکم بھی دیا گیا ہو جس پر عمل کرنا انسانی طاقت سے بالاتر ہو یا کوئی ایسا حکم بھی ہو جس کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہو یا نظام دنیا میں فساد کا اندیشہ ہو۔ کیا ایسی ایک کتاب جس میں ایسے احکام داخل ہیں جو انسانی طاقت سے بالاتر ہیں یا ان کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہے اور نظام عالم درہم برہم ہوتا ہے۔ کبھی اس خدا کی طرف منسوب ہو سکتی ہے جو ہے جو خالق فطرت اور منتظم نظام دنیا اور قوائے انسانی کے پورے اندازے جاننے والا ہے اور کیا وہ کتاب کامل اور مکمل شریعت کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے؟ لیکن میں اعتراض نہیں کرتا بلکہ میرا مقصد اس بیان سے اس امر کا اظہار ہے کہ یہ دونوں کتابیں صرف ایک ہی خاندان کی تھیں ۔ نہ حضرت عیسی نے اور نہ حضرت موسی نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام دنیا کے واسطے رسول ہو کر آئے تھے بلکہ وہ تو صرف اسرائیلی بھیڑوں تک ہی اپنی تعلیم محدود کرتے ہیں۔ ، ان کا اپنا اقرار موجود ہے۔ پس بلحاظ ضرورت کے ان کو جو کتاب ملی وہ بھی ایک قانون مختص الزمان اور مختص القوم تھا۔ اب ظاہر ہے کہ ایک چیز جو ایک خاص ضرورت کے لئے ایک خاص زمانے اور مکان کے واسطے وو لے بدر سے۔ چنانچہ حضرت عیسی نے خود کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وَ رَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاءِيلَ (ال عمران : ۵۰) ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۶)