ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 351

ملفوظات حضرت مسیح موعود سن لینے سے کہاں میسر آتی ہے؟ ع ۳۵۱ شنیدہ کے بود مانند دیده جلد دہم جب تک خدا خود آنا الْمَوْجُودُ کی آواز نہ دے یا اپنے پیارے کلام وحی والہام کی ضرورت سے اور زبردست غیبی نشانات سے اپنا چہرہ نہ دکھا دے تب تک وہ پیاس کب مٹ سکتی ہے جو حق کی طلب کی پیاس انسان کو لگی ہوئی ہے۔ یہ کہنا کہ خدا پہلے تو نشانات اور معجزات دکھاتا تھا رسول بھیجتا تھا مگر اب نہیں ۔ یہ نعوذ باللہ خدا کی ذات کی سخت تو ہین اور بے ادبی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اب وہ سنتا تو ہے اور دیکھتا بھی ہے مگر بولتا نہیں؟ اچھا تو اس پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ قوت شنوائی اور بینائی بھی قوت گویائی کی طرح جاتی نہیں رہیں ۔ انسان اپنی فطرت سے الگ نہیں ہو سکتا ۔ بکری سے بھیڑیے کا کام لیں تو دے سکتی ہے؟ ہرگز نہیں ۔ پس یہی حال فطرت انسانی کا ہے کہ اپنی بناوٹ کے خلاف ہرگز نہیں چل سکتی ۔ نرے قصوں سے کب وہ تسلی پاسکتی ہے۔ اگر چہ کوئی ظاہر داری کے واسطے ہاں میں ہاں ملا دے مگر دل لعنت بھیجتا ہوگا اور انکار کرتا ہو گا کہ میں نہیں مانتا۔ یا درکھو کہ اگر پہلے کبھی الہام تھا تو اب بھی ضروری ہے کہ الہام ہو۔ اسلام جب صرف ایک ہی فرقہ تھا اور مختصر بھی تو اس وقت تو نبی اور رسول آنے اور الہامات ہونے کی ضرورت تھی ۔ مگر اب جبکہ ایک سے تہتر فرقے ہو گئے ہیں اور تفرقہ کی حد و نہایت نہیں رہی کلام الہی پر مہر لگائی جاتی ہے اور خدا کا منہ بند کیا جاتا ہے۔ کوئی فطرت سلیم اور عقل صحیح اس منطق کو قبول نہیں کر سکتی ۔ ہر چیز کے پیدا ہونے کی ماں ضرورت ہے۔ دیکھو ایک چھوٹی سی مثال ریلوے تصادم کی ہے۔ تصادم کے واردات ترقی کرنے لگے تو اصلاح کے سامان بھی پیدا ہو گئے ۔ یہ سب طرح طرح کی کلیں جو دیکھنے میں آتی ہیں یہ سب ضرورت نے ہی مہیا کرا دی ہیں ۔ تو اب جبکہ انسانی حالت لے بدر سے ۔ اب خدا کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ زندہ بھی ہے یا کہ نہیں ۔“ ( بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۶ )