ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 340

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ۔ جلد دہم ہم اسلام پر اندرونی اور بیرونی حملے اب ہمارا یہ زمانہ جس میں موجود ہیں کیا اندرونی اور کیا بیرونی طور سے اس میں اس قدر مفاسد بھرے ہوئے ہیں کہ جس پہلو پر نظر ڈالو کوئی بھی خوش کن نہیں ۔ بیرونی طور پر اسلام پر اس قدر حملے ہوئے ہیں اور اسلام نے اس قدر صدمے اٹھائے ہیں کہ ایک بہت بڑا حصہ مسلمانوں کا ان سے متاثر ہو کر خود دین سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا ہے پھر ان کے بعد ایک بہت بڑا حصہ مذبذب لوگوں کا پیدا ہو چکا ہے جن کو اسلام کے متعلق اطمینان حاصل نہیں اور وہ بالکل کمزور ہیں ۔ باقی یقین کامل رکھنے والے اور علی وجہ البصیرت اسلام پر ایمان لانے والے بہت ہی قلیل ہیں ۔ کئی قسم کے حملے ہو رہے ہیں۔ منقولات کے اسلحہ اسلام پر چلائے جاتے ہیں اور آریہ اور پادری لوگ اعتراضات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ خود وہ گندے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ نکتہ چینی کرنا سہل ہے مگر خوبی بیان کرنا مشکل ۔ علوم جدیدہ کا بھی ایک قسم کا اسلام پر حملہ ہے۔ آجکل کی تعلیم ، فلسفہ طبعی علوم جدیدہ کا حملہ اور ہیئت بھی انسان کو ایک غلطی میں ڈالتی ہے۔ میں تجربہ سے دیکھ رہا ہوں کہ اکثر لوگ جنہوں نے خواہ مکمل طور سے ان علوم کو حاصل کیا ہو خواہ ناقص طور سے وہ عموماً بے قید زندگی اختیار کر لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہی ان کے دلوں سے اٹھ جاتی ہے اور پھر نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ خود خدا سے بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے کلام سے ہی ایک قسم کی بد بو آتی ہے اور وہ ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ آج بھی ہاتھ سے گئے اور کل بھی گئے اور در حقیقت اس گروہ کا حملہ آریوں اور پادریوں کے حملوں سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ ان کے اعتراض عموماً منقولات کے رنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں صدق و کذب کا احتمال ہوتا ہے مگر یہ لوگ تو اپنا ذاتی تجربہ اور روزانہ مشاہدہ پیش کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اس کا اثر بہت سخت اور برا پڑتا ہے۔ غرض سچی بات یہی ہے کہ اندرونی حملے بیرونی حملوں سے بہت بڑھے ہوئے اور خطرناک اور