ملفوظات (جلد 10) — Page 341
ملفوظات حضرت مسیح موعود لله لدا جلد دہم زہریلا اثر ڈالنے والے ہیں ۔ سچ ہے کہ از ما است که بر ما است ۔ اصل میں یہ قصور خود مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اپنی سادہ لوح اولاد کو بغیر اس کے کہ ان کو قرآن اور اسلام کے ضروری علوم سے آگاہ کریں ان مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیا۔ مانا کہ طلب علم ہر مرد عورت پر فرض ہے جیسا کہ حدیث طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ سے ظاہر ہے مگر اول علوم دینیہ کا حصول فرض ہے۔ جب بچے علوم دینی سے پورے واقف ہو جاویں اور ان کو اسلام کی حقیقت اور نور سے پوری اطلاع ہو جاوے تب ان مروجہ علوم کے پڑھانے کا کوئی حرج نہیں ۔ اصل میں ان مسلمانوں کی موجودہ روش بہت ہی خطرناک ہے۔ دیکھو! پہلے ایک عورت کو بازاری کنجری بنا کر پھر توبہ کرائی جائے تو وہ کیسی تو بہ کرے گی ؟ شراب ، بدکاری اور بے قید زندگی اس کی عادت ثانی ہو جاوے گی ۔ اول تو اسے تو بہ کرنا ہی مشکل اور اگر کرے بھی تو وہ کیسی تو یہ ہوگی ؟ اس کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ یہی حال ان لڑکوں کا ہے جن کو پہلے فلسفہ اور سائنس کے زہر یلے علوم سکھا کر خود خدا کی ہستی پر ہی شبہات پیدا کرا دیئے جاتے ہیں اور پھر ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بھی شیفتہ ہوں ۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ کوئی فلسفہ اور سائنس خواہ وہ اپنی اس علوم جدیدہ کے حملے کا علاج موجودہ حالت سے ہزار درجہ ترقی کر جاوے مگر قرآن ایسی ایک کامل کتاب ہے کہ یہ نئے علوم کبھی بھی اس پر غالب نہیں آسکتے ۔ مگر اس شخص کی نسبت ہم کیوں کر ایسی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ جس کی نسبت ہمیں معلوم ہے کہ اس کو علوم قرآن سے مس ہی نہیں اور اس نے اس طرف کبھی تو جہ ہی نہیں کی بلکہ کبھی ایک سطر بھی قرآن شریف کی غور و تدبر کی نظر سے نہیں پڑھی ۔ مثال کے طور پر قرآن کی تعلیم روحانی کا ایک فلسفہ بیان ہوا ہے جو بعد الموت اعمال کے نتیجہ میں انسان کو بہشت کے رنگ میں ملے گا جس کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی۔ بظاہر یہ ایک قصہ ہے مگر قصہ ** لے بدر سے ۔ ” پادریوں کے یا آریوں کے مدرسوں میں اپنی اولاد کا بھیج دینا اور پھر ان سے اس بات کا طلبگار ہونا کہ یہ سچے مسلمان ہوں ۔ ن ہوں۔ ایک خیال است و محال است و جنوں ( بدر جلدے نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ صفحه ۴)