ملفوظات (جلد 10) — Page 339
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۹ جلد دہم ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس : ١٠) کامیاب ہو گیا ، با مراد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا۔ تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اور فیوض اور کامیابیوں کا راز نہاں ہے ۔ فلاح صرف امور دینی ہی میں نہیں بلکہ دنیا و دین میں کامیابی ہوگی ۔ نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔ میں یہ قبول نہیں کر سکتا کہ فلسفہ، ہیئت اور سائنس کا ماہر ہونے سے تزکیہ نفس بھی ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں ۔ البتہ یہ مان سکتا ہوں کہ ایسے شخص کے دماغی قوئی تیز اور اچھے ہو جاتے ہیں ۔ ورنہ ان علوم ا کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ بعض اوقات یہ امور روحانی ترقی کی راہ میں ایک روک ہو جاتے ہیں اور آخری نتیجہ اس کا بجز اس خوش قسمت کے کہ وہ فطرت سلیم رکھتا ہے اکثر کبر و نخوت ہی دیکھا ہے۔ کبھی نیکی اور تواضع ان میں نہیں ہوتی ۔ ایک اور امر قابل یاد رکھنے کے یہ ہے کہ یہ قاعدہ ہے ضرورت انسان کی راہ نما ہے اور قانون قدرت میں داخل ہے کہ ہر چیز ضرورت سے پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح ظاہری طور سے ہم دنیوی امور میں ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ لباس، خوراک ، سواریاں اور اور آلات معیشت جتنے بھی ہیں یہ تمام ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے روحانی امور میں بھی بہت سے امور ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں اور جب کبھی ضرورت ہوتی ہے وہ خدا کی طرف سے پوری کی جاتی ہے۔ ضرورت انسان کی روحانی جسمانی تمام امور میں راہ نما ہے اور اسی سے حق و باطل میں امتیاز حاصل ہو سکتا ہے۔ جس طرح کوئی چیز بلا ضرورت اور بے فائدہ نہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورت حقہ کے وقت یہ خیال کرنا کہ خدا نے اس وقت کوئی سامان پیدا نہیں کیا۔ سخت غلطی ہے۔ ے بدر سے کبر ایسی بری بلا ہے کہ انسان اس کی وجہ سے ہر قسم کی ترقی سے رک جاتا ہے۔“ ( بدر جلدی نمبر ۲۵ مورخه ۲۵ جون ۱۹۰۸ ء صفحه (۴)