ملفوظات (جلد 10) — Page 338
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۸ جلد دہم اختیار کرتا ہے اسی قدر روشن ضمیری بھی اسے عطا کی جاتی ہے۔ مخالفت دینی اور مذہبی اور ہے اور حکومت اور چیز ہے۔ اگر عدالت کو مد نظر نہ رکھیں تو ایک دن میں یہ تختہ الٹ جاوے ۔ مسلمانوں کا یہ خیال کہ ہمیں اعلیٰ اعلیٰ عہدے کیوں نہیں دیئے جاتے یہ ان کی اپنی غلطی ہے۔ یا درکھو کہ کوئی کام جب تک پہلے آسمان پر نہیں ہو لیتا زمین پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خود نیک چلنی اختیار کرو اور اپنی حالت کو سنوارو ۔ اس قابل بنو کہ خدا کی نظر میں آسمان پر تم اس قابل ٹھہر جاؤ کہ تمہیں عزت مل سکے تو پھر خود خدا تمہیں سب کچھ دے دے گا ۔ اپنی حالتوں کو بدل کہ تا خدا بھی تمہارے واسطے کوئی اور راہ بناوے۔ ورنہ یا د رکھو کہ خدا نہیں چھوڑے گا جب تک کہ تم اپنی حالت کو نہیں سنوارو گے۔ تیسرا مقام خدا کے شکر کا یہ ہے کہ یہ تزکیہ نفس میں ہی کامیابیوں کا راز پنہاں ہے خاص خدا کا فضل ہے کہ اس تھے آپ لوگوں کے دلوں میں اس طرف توجہ ڈالی اور آپ لوگ یہاں تکلیف اٹھا کر تشریف لائے ۔ خدا کرے کہ جس طرح ہم جسمانی طور سے مل کر بیٹھے ہیں اور جسمانی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح ایک دن وہ بھی آوے کہ روحانی طور سے بھی ہم مل بیٹھیں ۔ خدا نے انسان کو زبان دی اور ایک دل بخشا ہے۔ صرف زبان سے کوئی فتح نہیں ہو سکتی ۔ دلوں کو فتح کرنے والا دل ہی ہوتا ہے جو قوم صرف زبانی ہی زبانی جمع خرچ کرتی ہے یا د رکھو کہ وہ کبھی بھی فتحیاب نہیں ہو سکتی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا نمونہ دیکھو کیا ان کے پاس کوئی ظاہری سامان تھے ؟ ہر گز نہیں ۔ مگر پھر بایں ہمہ کہ وہ بے سروسامان تھے اور دشمن کثیر اور ہر طرح کے سامان اسے مہتا تھے ان کو خدا نے کیسی کیسی بے نظیر کا میابیاں عطا کیں بھلا کہیں کسی تاریخ میں ایسی کامیابی کی کوئی نظیر ملتی ہے؟ تلاش کر کے دیکھ لو مگر لا حاصل ۔ پس جو شخص خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی دنیا ٹھیک ہو جاوے، خود پاک دل ہو جاوے ۔ نیک بن جاوے اور اس کی تمام مشکلات حل اور دکھ دور ہو جاویں اور اس کو ہر طرح کی کامیابی اور فتح و نصرت عطا ہو تو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا ہے اور وہ یہ