ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 334

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۴ جلد دہم کے واسطے مہیا کیے ہیں۔ ان کا خیال کر کے اس کا شکریہ کرے اور غور کرے کہ اتنے قومی اس کو کس نے عطا کئے ہیں؟ انسان شکر کرے یا نہ کرے۔ یہ اس کی اپنی مرضی ہے ۔ مگر اگر فطرت سلیم رکھتا ہے اور سوچ کر دیکھے گا تو اس کو معلوم ہو گا کہ کیا ظاہری اور کیا باطنی ہر قسم کے قومی اللہ تعالیٰ ہی کے دیئے ہوئے اور اسی کے تصرف میں ہیں۔ چاہے تو ان کو شکر کی وجہ سے ترقی دے اور چاہے تو ناشکری کی وجہ سے ایک دم میں ضائع کر دے۔ غور کا مقام ہے کہ اگر یہ تمام قومی خود انسان کے اپنے اختیار اور تصرف میں ہوں تو کون ہے کہ اس کا مرنے کو جی چاہے۔ انسان کا دل دنیا کی محبت کی گرمی کی وجہ سے آخرت سے بے فکری و سرد مہری اختیار کر لیتا ہے۔ غافل انسان ایسا نادان ہے کہ اگر اس کو خدا سے پروانہ بھی آجاوے کہ تمہیں بہشت ملے گا ، آرام ہوگا اور طرح طرح کے باغ اور نہریں عطا کی جاویں گی۔ تمہیں اجازت ہے اور تمہاری اپنی خواہش اور خوشی پر منحصر ہے کہ چاہو تو ہمارے پاس آجاؤ اور چاہو تو دنیا میں ہی رہو۔ تو یا درکھو کہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ وہ اس دنیا کے گزارہ کو ہی پسند کریں گے اور باوجود طرح طرح کی تلخیوں اور مشکلات کے اس دنیا سے محبت کریں گے۔ دیکھو! عمر کا بھروسہ نہیں ۔ زمانہ بڑا ہی نازک دنیا حداعتدال سے باہر ہو چکی ہے آگیا ہے۔ آپ لوگ دیکھتے ہوں گے کہ ہر سال کئی دوست اور کئی دشمن ، کئی عزیز اور کئی پیارے بھائی اور بہن اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عزیز سے عزیز اور قریبی سے قریبی رشتہ دار انسان کی مشکلات میں سہارا دینے والا نہیں ہو سکتا ۔ مگر بایں ہمہ انسان جس قدر محنت اور کوشش اور مجاہدہ ان کے واسطے اور اپنے دنیوی امور کے واسطے کرتا ہے وہ بمقابلہ خدا کے بہت ہی بڑھا ہوا ہے ۔ خدا کی عبادت اور فرماں برداری اکے ۔ اور اس کی راہ میں کوشش اور سوز و گداز بہت کچھ نابود ہے۔ اعتدال نہیں کیا گیا۔ دنیا حد اعتدال سے و ۔ باہر ہو چکی ہے۔ دنیوی کا روبار میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقی ہو رہی ہے۔ مگر بھلا کسی نے ایسی کوشش بھی کی ہے کہ ایک دن اس کی موت کا مقرر ہے ۔ اس سے بھی یہ خود اپنے آپ کو یا کوئی دوسرا شخص اس کو باز رکھ سکے یا بچا سکے ۔ ہر گز نہیں ۔ بلکہ اگر کوئی موت کا یا ددلانے والا ہوگا