ملفوظات (جلد 10) — Page 335
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۵ جلد دہم تو اس کی بھی پروا نہ کریں گے اور ہنسی ٹھٹھے میں ٹال دیں گے۔ اکثر انسان بہت ہی غلطی پر ہیں۔ دیکھو! یہ نہ سمجھنا کہ ان باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ تم تجارت نہ کرو یا کاروبار دنیا توجہ الی اللہ کو ترک کر کے بیٹھ جاؤ۔ عیال واطفال جو تمہارے گلے میں پڑے ے ہوئے ہیں۔ ان کی خبر گیری نہ کرو یا بیوی بچوں یا بنی نوع انسان کے بعض حقوق جو تمہاری ذمہ داری میں داخل ہیں ان کی پروا نہ کرو نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی بجالاؤ اور خدا سے بھی غافل نہ ہو۔ جب تم اپنی دنیوی آنی اور فانی ضروریات میں اس طرح کا انہماک اور استغراق پیدا کرتے ہو تو خدا تعالیٰ سے منہ پھیر لینا اور اس کی رضا جوئی اور خوشنودی کے حصول کے واسطے کوشش نہ کرنا اور خدا سے منہ پھیر لینا بھلا کس عقلمندی کا کام ہے؟ وہ خدا جس نے ابتدا میں پیدا کیا اور درمیانی حالات بھی اس کے قبضہ اور تصرف میں ہیں اور انجام کا ربھی اسی کی حکومت اور اسی سے واسطہ پڑے گا۔ اس خدا سے فارغ محض اور غافل ہو جانا اس کا نتیجہ ہرگز خیر نہیں ہو سکے گا۔ وہ خدا جس کے انعامات انسان کے ساتھ ہر حال میں شامل رہتے ہیں اور وہ بے شمار اور بے اندازہ احسانات ہیں اسی کا شکر کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ شکر اسی کو کہتے ہیں کہ سچے دل سے اقرار کرے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ایسی ہیں کہ بے شمار اور بے اندازہ ہیں ۔ جو میں گو انصاف پسند گورنمنٹ کا شکر یہ دوسری بات جو یں کہنا چاہتا ہوں اور کہوں گا و بعض یہ لوگ اسے ظاہری خیال یا بناوٹ یا کچھ سمجھیں اور وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ انگریزی کا احسان ہم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا جاوے۔ سوچ کر دیکھ لو۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس عہد حکومت سے پہلے سکھوں کے زمانہ میں ہی ہم لوگوں پر کیسے کیسے مشکلات تھے۔ ہمارے باپ دادا کی حالت کیسی خطروں میں گھری ہوئی تھی اور احکام شرعیہ کا رواج تو بجائے خود اذان تک تو اونچی آواز سے کوئی کہہ نہ سکتا تھا۔ بلند آواز سے اذان کہنا ایک ایسا جرم تھا جس کی سزا موت ہوتی تھی ۔ کسی قسم کے حلال شرعیہ بھی استعمال نہ کئے جاسکتے تھے۔ بات بات پر انسان کیڑوں مکوڑوں کی طرح ذلت سے ہلاک کر دیا