ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 333

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۳ جلد دہم اللہ کی ایک صفت ربّ ہے یعنی پرورش کرنے اور تربیت کرنے والا ۔ کیا صفت ربوبیت روحانی اور کیا جسمانی دونوں قسم کے قوی اللہ تعالیٰ نے ہی انسان میں رکھے ہیں۔ اگر قومی ہی نہ رکھے ہوتے تو انسان ترقی ہی کیسے کر سکتا ۔ جسمانی ترقیات کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور انعام کے گیت گانے چاہئیں کہ اس نے قومی رکھے اور پھر ان میں ترقی کرنے کی طاقت بھی فطر تا رکھ دی ۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : (۴) خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا۔ ایک صفت مالکیت رنگ میں اس دنیا میں بھی جز اسر املتی ہے۔ ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے۔ ایک روز نہ پکڑا جاوے گا دو روز نہ پکڑا جاوے گا آخر ایک دن پکڑا جاوے گا اور زندان میں جائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ یہی حال زانی ، شراب خور اور طرح طرح کے فسق و فجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شانِ ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ آخر وہ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور دکھوں میں مبتلا ہو کر ان کی زندگی تلخ ہو جاتی ہے اور یہ اس اُخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے۔ اسی طرح سے جولوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرماں برداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے تو خدا ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور باردار ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طور پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے ۔ غرض جتنے بھی بدیوں کا ارتکاب کرنے والے فاسق ، فاجر ، شراب خور اور زانی ہیں ۔ ان کو خدا کا اور روز جزا کا خیال آنا تو در کنار ۔ اسی دنیا میں ہی اپنی صحت ، تندرستی ، عافیت اور اعلیٰ قومی کھو بیٹھتے ہیں اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں۔ سل، دق، سکتہ اور رعشہ اور اور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہو کر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ پس انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا جو اس نے انسانی تربیت اور تکمیل