ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 329

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۹ جلد دہم وہ شخص اس سے احسان و مدارات سے پیش آتا ہے تو وہ چور خواہ کس قدر برا ہے مگر اس شخص کی کبھی چوری نہیں کرے گا اور کبھی اس کے گھر میں نقب نہیں لگائے گا تو کیا خدا چور جیسا بھی نہیں؟ کیا خدا سے وفاداری کا تعلق بے فائدہ جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تمام اخلاق حمیدہ اسی کے صفات کا پرتو ہیں۔ جو سچے دل سے اس کے پاس آتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرقان رکھ دیتا ہے ۔ صوفی کہتے ہیں جس شخص پر چالیس دن گزر جائیں سچے دل ا سے سے ت تشریع ایک حصار ہے اور خدا کے خوف سے ایک دفعہ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں تو ان کی نسبت اندیشہ ہے کہ وہ بے ایمان ہو کر مرے ۔ اب ایسے بھی بندگانِ خدا ہیں کہ چالیس دن کی بجائے چالیس سال گزر جاتے ہیں اور ان کی اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی ۔ دانشمند انسان وہ ہے جو بلا آنے سے پہلے بلا سے بچنے کا سامان کرے۔ جب بلا نازل ہو جاتی ہے تو اس وقت نہ سائنس کام دیتی ہے اور نہ دولت ۔ دوست بھی اس وقت تک ہیں جب تک صحت ہے پھر تو پانی دینے کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا۔ آفات بہت ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا جلدی تو بہ کرو کہ انسان کے گرد چیونٹیوں سے بڑھ کر بلائیں ہیں ۔ جن لوگوں کا تعلق خدا سے ہے جس طرح وہ بلاؤں سے بچائے جاتے ہیں دوسرے ہرگز نہیں بچائے جاتے۔ تعلق وہ بڑی چیز ہے۔ ع به زیر سلسله رفتن طریق عیاری است کوئی انسان نہیں جس کے لئے آفات کا حصہ موجود نہیں ۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( أَلَمْ نَشْرَح :) انسان کو مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ع بر کریماں کا رہا دشوار نیست ایک منٹ میں کچھ کا کچھ کر دیتا ہے ۔ ه نومید ہم مباش که رندان باده نوش ناگاه بیک خروش بمنزل رسیده اند