ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 328 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 328

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۸ جلد دہم ہم تو تینوں طبقوں کے لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان کو کیا کہیں کہ جو مومن کو کافر کہیں ۔ جو ہمیں کا فرنہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے اپنے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیح کا فر سمجھتے ہیں ۔ پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ تعلیم نسواں کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں ؟ تعلیم نسواں انسواں فرمایا۔ حدیث ہے طلبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَمُسْلِمَةٍ - مَیں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اور اس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تو وہی باتیں ان کے بدن میں شیر مادر کی طرح رچ جائیں گی۔ پھر سوا اس کے اور کیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ عیسائی تو بہت کم ہوں کیونکہ تثلیث و کفارہ اور ایک انسان کو خدا ماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسا لغو ہے کہ اسے کوئی عقیل و فہیم قبول نہیں کر سکتا ۔ البتہ دہر یہ ہو جانے کا بہت خطرہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایا جاوے ۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پر مذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے؟ ہم تعلیم نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکول بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قلعہ محفوظ کیا جائے تا بیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السبيل ، تو بہ ، تقویٰ و طہارت کی توفیق دے۔ فرمایا۔ ملازمت اگر منہیات سے روکے تو ایک نعمت ہے جو ہر طرح سے ملازمت کیسی ہو اب تک یہ ہے اور اگر برخلاف اس کے قابل شکریہ ہے اور اگر برخلاف اس کے بد افعال کا مرتکب کرے تو پھر ایک لعنت ہے جس سے بچنا لازم ۔ تعلق پیدا کرنا بڑے کام کی چیز ہے۔ دیکھو! تعلق پیدا کرنا بڑے کام کی چیز ہے کوئی چور ہے اور ایک شخص کا بڑا دوست ہے