ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 327

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۷ جلد دہم سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہو سکتا ۔ اس شخص نے کہا کہ جو کا فرنہیں کہتے ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ فرمایا۔ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ۔ ہم خوب آزما چکے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل منافق ہوتے ہیں ان کا حال ہے وَ إِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ (البقرة : (۱۵) یعنی سامنے تو کہتے ہیں کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی مخالفت نہیں مگر جب اپنے لوگوں سے ملی بالطبع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ان سے استہزا کر رہے تھے پس جب تک یہ لوگ ایک اشتہار نہ دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مومن سمجھتے ہیں بلکہ ان کو کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ تو میں آج ہی اپنی تمام جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں ۔ ہم سچائی کے پابند ہیں۔ آپ ہمیں شریعت اسلام سے باہر مجبور نہیں کر سکتے ۔ جب اس میں یہ بالا تفاق مسلّمہ مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا خود کا فر ہے تو ہم انہیں کس طرح مسلمان کہیں ؟ اور ان مکفرین اہل حق کو کافر نہ جانیں؟ ہم کس طرح سمجھیں کہ وہ سچے مسلمان ہیں؟ جب ان کے دلوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی عظمت نہیں ہے حالانکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا پاس کرے اور جو کچھ انہوں نے فرمایا اسی کے مطابق عقیدہ رکھے ۔ اس پر اس شخص نے پھر مکر روہی کہا۔ آپ نے پھر با تفصیل سمجھایا کہ دیکھو! پہلے اپنے ملاں لوگوں سے پوچھ تو دیکھیں کہ وہ ہمیں کیا سمجھتے ہیں؟ وہ تو کہتے ہیں یہ ایسا کافر ہے کہ یہود و نصاری سے بھی اس کا کفر بڑھ کر ہے۔ پس جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو جب مخلصی کا پیغام پہنچا تو تو آپ آپ نے فرمایا۔ پہلے ان سے یہ تو پوچھو کہ میرا قصور کیا ہے؟ سو آپ صلح سے پہلے یہ تو پوچھئے کہ ہم میں کفر کی کونسی بات ہے ہم تو جو کچھ کرتے ہیں جو کہتے ہیں سب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، جلال وعزت کا اظہار موجود ہے۔ قرآن مجید میں ہے فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمُ مُقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ (فاطر : ۳۳)