ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 326

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۶ جلد دہم پس فلاح جسمانی و روحانی پانی ہے تو ان تمام آفات و منہیات سے پر ہیز کرو۔ نفس کو بے قید نہ کرو کہ تم پر عذاب نہ آجائے ۔ اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت سے سب دکھوں سے بچنے کی راہ بتادی۔ اب کوئی اگر ان دکھوں سے ان گناہوں سے نہ بچے تو اسلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ حاصل کلام دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو نیچریت میں حد سے بڑھ گئے ہیں قریب ہے کہ وہ دہر یہ ہو جاویں۔ ان کے نزدیک ارکان صلوۃ ایک لغو حرکت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں نبی بھی آتی ۔ صحابہ بھی اُتی ۔ پس انہی کے لائق یہ حکم تھا۔ یہ افراط کا طریق ہے۔ دوسرے وہ لوگ جو تفریط میں پڑے ہیں حقوق اسلام کو کھا گئے ۔ فقیر ذکر اللہ کے طرح طرح کے طریقے نکال بیٹھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اُمَّةً وَسَطًا ہو۔ پس اعتدال چاہیے اور درمیانی راہ اختیار کرنی لازم ہے ۔ پھر اس معزز ملاقات کرنے والے ہم کسی کلمہ گو و اسلام سے خارج نہیں کہتے (مسر فضل حسین صاحب پر سٹرایٹ لاء ) نے عرض کیا کہ اگر تمام غیر احمدیوں کو کافر کہا جائے تو پھر اسلام میں تو کچھ بھی نہیں رہتا۔ فرمایا۔ ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے آپ کو شاید معلوم نہ ہو جب میں نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کے بعد بٹالہ کے محمد حسین مولوی ابوسعید صاحب نے بڑی محنت سے ایک فتوی تیار کیا جس میں لکھا تھا کہ یہ شخص کافر ہے دجال ہے۔ ضال ہے۔ اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے جو ان سے السلام علیکم کرے یا مصافحہ یا انہیں مسلمان کہے وہ بھی کافر ۔ اب سنو ! یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو مومن کو کافر کہے وہ کافر ہوتا ہے۔ پس اس مسئلہ سے ہم کس طرح انکار کر سکتے ہیں ۔ آپ لوگ خود ہی کہہ دیں کہ ان حالات کے ماتحت ہمارے لئے کیا راہ ہے؟ ہم نے ان پر پہلے کوئی فتویٰ نہیں دیا ۔ اب جو انہیں کافر کہا جاتا ہے تو یہ انہیں کے کافر بنانے کا نتیجہ ہے۔ ہے۔ ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی ۔ ہم نے کہا کہ دو مسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں ۔ اس نے جواب لکھا کہ ہم تو تجھے پکا کافر سمجھتے ہیں ۔ اس شخص نے عرض کیا کہ وہ آپ کو کافر کہتے ہیں تو کہیں لیکن اگر آپ نہ کہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ فرمایا کہ جو ہمیں کا فرنہیں کہتا ہم اسے ہر گز کا فرنہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے اسے کافر نہ