ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 306

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۶ جلد دہم مسلمانوں کو سکھایا ہے جس میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں اور نہایت پاک اور حق و حکمت کا اصول ہے کہ ! ایک خاص حد تک سزا ہوگی ۔ بعد اس کے نجات ہو جاوے گی کیونکہ آخر فطرتوں اور قومی انسانی کا خالق تو خدا ہی ہے کوئی فطرت سلیم اور کانشنس منظور ہی نہیں کر سکتا کہ ایک کمزور اور ناتواں انسان کے گناہ کو ایسا عظیم الشان مانا جاوے جو کبھی بخشا ہی نہ جاوے۔ دوسرا معاملہ معراج کا ہے۔ بے شک ہم بھی مانتے ہیں کہ جسم کے ساتھ معراج کی حقیقت آپ گئے تھے۔ بیداری بھی تھی اور جسم بھی تھا مگر وہ ایک اعلی درجہ کی کشفی حالت تھی اس دلیل کے واسطے بخاری کو دیکھ لو کہ یہ سارا واقعہ لکھنے کے بعد لکھا ہوگا کہ ثُمَّ استيقظ بھلا اس کے کیا معنے ؟ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کو بہت عرصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کا ( موقع ملا تھا اور جن کا علم بھی بہت بڑا تھا ان کی یہ روایت ہے۔ استيقظ سے یہ مراد نہیں کہ آپؐ نے خواب دیکھا تھا بلکہ ایک قسم کی بیداری تھی اور اس میں یہ بھی شعور تھا کہ مع جسم گئے۔ یہ ایک خدا کا تصرف ہوتا ہے کہ غیبوبت جس نہیں ہوتی اور یہ ایک نکتہ ہے کہ علم سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ تجربہ صحیحہ اس کو حل کر سکتا ہے۔ فلسفہ اور طبعی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اعتراض کے قابل بات ہے مگر بعض لوگ خود اسلام کو بگاڑتے اور قابلِ اعتراض بناتے ہیں ۔ لے ۱۲ رمئی ۱۹۰۸ء ( بمقام لاہور قبل نماز ظہر ) انگلستان کار نان کا رہنے والا ایک بڑا انگلستان کے پروفیسر ریگ سے گفتگو جاری با علم بہت ہے۔ وہ تم دنیا کی سر کے بھا ماہر تمام ارادے سے وطن سے نکلا اور علم ہیئت پر بڑے بڑے لیکچر دیتا پھرتا ہے۔ چنانچہ چند روز سے لاہور میں وارد ہے اور ایک لیکچر لاہور میں بھی دیا جس میں بڑے بڑے انگریز لیکچر سننے کے واسطے شامل تھے۔ حضرت مفتی محمد صادق بھی حسن اتفاق سے اس لیکچر میں موجود تھے۔ لیکچر کے خاتمہ پر مفتی صاحب ممدوح الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۲، ۳