ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 305

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۵ جلد دہم اسلام ایک ایسا پاک اور کامل مذہب ہے کہ اس کے کسی اعتقاد پر اعتراض جہنم دائی نہیں ہو ہی نہیں سکتا ۔ معاد کے متعلق بعض لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر دوزخ کا خلود اور حالت کفر میں مر جانے کی سزا بھی ابدالآباد اور لا انقطاع زمانہ کے واسطے مانی جاوے تو اس طرح سے ایک ظلم لازم آتا ہے اور یہ امر خدا کے بے انتہا رحم کے برخلاف ہے ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ دوزخ کی ابدیت ، جنت کی ابدیت اور خلود کی طرح لا انقطاع نہیں ہے۔ کیونکہ جن قومی سے انسان ارتکاب گناہ کرتا ہے آخر ان کا خالق بھی تو خود خدا ہی ہے۔ انسان وہ قومی اور وہ فطرت آخر گھر سے تو لا یا نہیں ۔ مانا کہ انسان فعل اور ترک فعل میں بعض اوقات دخل و تصرف رکھتا ہے اور خود بدی کرتا ہے مگر چونکہ خالق فطرت خدا تھا اور اس نے خود فرمایا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : ٢٩) لہذا اس کو اس کا فائدہ بھی دیا جانا چاہیے تھا۔ پس گناہ کی سزا ہوگی اور عذاب ہوگا مگر یہ ابدیت وہ نہیں جس طرح خدائی ابدیت ہے ایک خاص وقت تک جہنم میں رکھ کر اصلاح ہو جانے پر رہائی ہو جاوے گی ۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر خدا کے کلام سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ جہاں بہشت کا ذکر ہے وہاں عَطَاء غَيْرَ مَجْنُودٍ (هود : ۱۰۹) کا لفظ ہے اور جہاں جہنم کا ذکر ہے وہاں یہ فرمایا کہ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ (هود : ۱۰۸) ان آیات میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں کو خوف نہیں دلایا گیا مگر دوزخیوں کو مخلصی کی امید ضرور دلائی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر بہشت کے متعلق عَطَاء غَيْرَ مَجْنُوذٍ کا لفظ نہ ہوتا تو بہشت والوں کو بھی کھٹکا ہی رہتا ۔ مگر خدا نے عَطَاءٌ غَيْرَ مَجْنُونِ ردود کا لفظ بڑھا کر وہ کھٹکا ہی مٹا دیا کہ یہ خدا کی عطا ہے وہ واپس نہیں لی جاتی اور اس کی نسبت ہم نے ایک اور حدیث بھی دیکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَّيْسَ فِيهَا أَحَدٌ وَنَسِيمُ الصَّبَا تُحَرِّكُ أَبْوَابَهَا - اب دیکھو! یہ کیسا پاک اصول اور عقیدہ ہے جو اسلام نے دوزخ اور بہشت کے متعلق