ملفوظات (جلد 10) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۷ جلد دہم نے پروفیسر صاحب سے ملاقات کی اور حضرت اقدس کے دعاوی اور دلائل وغیرہ ان کو سنائے۔ چنانچہ پروفیسر موصوف اسی وقت تیار ہو گیا کہ حضرت اقدس کے حضور حاضر ہو مگر مفتی صاحب نے کہا کہ پہلے میں حضرت اقدس سے اجازت لے کر وقت مقرر کرالوں پھر آپ کو لے جاؤں گا ۔ چنانچہ حضرت اقدس نے اجازت دی اور ۱۲ مئی قبل ظہر ملاقات ہوئی ۔ (ایڈیٹر ) سوال۔ سے میں ایک علمی مذاق کا آدمی ہوں ۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ زمین جس میں ہم رہتے ہیں ایک چھوٹی سی زمین ہے اور ہزار درہزار اور لاکھ دو لاکھ حصے اس کے علاوہ مخلوق الہی کے موجود ہیں اور یہ ان کے مقابلہ میں ایک ذرہ کی بھی حقیقت نہیں رکھتی تو پھر کیا وجہ کہ خدا کے فضل کو صرف اسی حصہ زمین یا کسی خاص مذہب وملت میں ہی محدود رکھا گیا ؟ او جواب ۔ دراصل یہ صحیح نہیں اور نہ ہی ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ایک خاص فرقے یا قوم کے ذریعہ خدا اپنی ہستی ظاہر کرتا ہے۔ خدا کو کسی خاص قوم سے انس یا رشتہ نہیں۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے اور جس طرح اس نے ظاہر جسمانی ضروریات اور تربیت کے واسطے مواد اور سامان تمام قسم ، کی مخلوق کے واسطے بلا کسی امتیاز کے مشترکہ طور سے پیدا کیے ہیں اور ہمارے اصول کی رو سے وہ رب العالمین ہے اور اس نے اناج ، ہوا، پانی ، روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتا فوقتا مصلح بھیجتا رہا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) خدا تمام دنیا کا خدا ہے ۔ کسی خاص قوم سے اس کو کوئی رشتہ نہیں اور یہ جو مختلف اوقات میں مختلف آسمانی کتابیں آئی ہیں ان میں بھی دراصل کوئی اختلاف نہیں کیونکہ جو قابل اصلاح امور ہوتے ہیں جب دنیا عملی رنگ سے بالکل بگڑ جاتی ہے اور فسق و فجور اور چوری شرارت وغیرہ پیدا ہو جاتی ہیں اور لوگ پاکیزگی سے دور ہو کر نفسانی شہوات سے مغلوب ہو جاتے ہیں اور اعتقادی طور سے بھی خدا کو چھوڑ کر بت پرستی کی طرف جھک جاتے ہیں تو پھر خدا جو انسان کا جسمانی اور روحانی مربی ہے لے بدر سے انگریز میں اور میری بیوی آپ کی ملاقات کو اپنے لئے موجب فخر سمجھتے ہیں۔ مسیح ۔ میں آپ کی ملا قار ملاقات سے بہت خوش ہوں ۔ ہوں ۔ ( بدر جلدے نمبر ۲۱ مو رے نمبر ۲۱ مورخه ۲۶ رمتی ۱۹۰۸ صفحه ۱) 66