ملفوظات (جلد 10) — Page 23
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳ جلد دہم کہ میرے سامنے آ کر جھوٹ بولے کہ اس وقت بھی اسی طرح سے لوگ آیا کرتے تھے اور اگر وہ کہیں کہ یہ اتفاقی بات ہے تو پھر کسی اور جگہ سے اس کی نظیر بتادیں اور دنیا بھر میں اس کا پتہ دیں کہ ایک شخص پچیس برس پہلے گمنامی کی حالت میں ہوا اور اس وقت اس نے پیشگوئی کی ہو کہ میرے پاس فوج در فوج لوگ آئیں گے اور ہزار ہا روپوں کے مال و متاع اور تحفے تحائف لے کر آویں گے اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر طرح سے مدد دیا جاؤں گا اور پھر اسی طرح سے وہ پیشگوئی پوری بھی ہو گئی ہو۔ اگر یہ دکھا دیویں تو ہم مان لیں گے۔ یونہی بہانہ جوئیاں تو ہم قبول نہیں کریں گے کیونکہ اس طرح سے تو کسی نبی کا کوئی بھی معجزہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو چاہیے کہ کسی کذاب کی نظیر پیش کریں کہ اس نے پچیس برس پہلے اس طرح سے اقتداری پیشگوئی کی ہو اور پھر وہ! ر پھر وہ پوری بھی ہو گئی ہو۔ اگر یہ ایسا کر دیں تو ہم تیار ہیں کہ انہیں قبول کر لیں ۔ اگر کوئی کہے کہ خیر خواہیں آیا ہی کرتی ہیں اور ان میں سے بعض پوری بھی ہوا ہی کرتی ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ خوا ہیں تو اکثر چوہڑوں اور چماروں کو بھی آتی ہیں اور ان سب سے پوری ہو جاتی ہیں بلکہ کنچنیاں بھی عموماً کہا کرتی ہیں کہ ہماری فلاں خواب پوری نکلی اور ہمارے گھر میں ایک چوہڑی تھی جو اکثر اپنی خواہیں سناتی تھی اور وہ سچی بھی ہوتی تھیں لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان میں یہ قدرت اور نصرت کہاں ہوتی ہے اس طرح کی فتح اور مدد اور دشمنوں کا ادبار اور اپنا اقبال ، دشمنوں کی ذلت اور اپنی عزت یہ تو صرف صرف انبیاء کے ہی سپر د ہے ۔ دوسرے کا تو اس میں کچھ حصہ ہی نہیں ۔ یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے یہ خوا ہیں تو نہیں ۔ براہین احمد یہ وہ کتاب ہے کہ جس کے کل مذہبوں والے گواہ ہیں اور ہر ایک ملک میں جس کی اشاعت ہو چکی ہے اور یہاں کے ہندو بھی جس کے گواہ ہیں ۔ مثلاً لالہ ملا وامل اور شرمیت جو اسی قادیان کے رہنے والے ہیں وہ پہچان سکتے ہیں کہ یہی باتیں تھیں جو اس وقت لکھی گئی تھیں ۔ اب دیکھ لو کہ کیا معجزات اس سے بڑھ کر ہوتے ہیں؟ یہی تو معجزہ ہے کہ پیشگوئی کے بعد ہندو، آریہ، عیسائی، مسلمان، نیچری، وہابی اپنے بیگانے سب کے سب ہمارے دشمن ہو گئے تھے اور ہمارے تباہ کرنے میں