ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 22

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲ جلد دہم یہ اس کی عبارت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ اس وقت تو اکیلا ہے مگر وہ زمانہ تجھ پر آنے والا ہے کہ تو تن تنہا نہیں رہے گا۔ فوج در فوج لوگ دور دراز ملکوں سے تیرے پاس آئیں گے اور آپ جانتے ہیں کہ جب اس قدر مخلوق آئے گی تو آخر ان کے کھانے کے واسطے بھی انتظام چاہیے اس لئے فرمایا يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ یعنی وہ لوگ تحفے تحائف اور ہزاروں روپے تیرے لئے لے کر آویں گے۔ پھر خدا فرماتا ہے۔ وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْتَمْ مِّنَ النَّاسِ ( ص ۲۴۲) یعنی کثرت سے مخلوق تیرے پاس آئے گی۔ اس کثرت کو دیکھ کر گھبرا نہ جانا اور ان کے ساتھ کج خلقی سے پیش نہ آنا۔ اس وقت جب کہ یہ الہام براہین احمدیہ میں پیشگوئی کے وقت قادیان کی حالت شائع کئے گئے تھے قادیان ایک غیر مشہور قصبہ تھا اور ایک جنگل کی طرح پڑا ہوا تھا۔ کوئی اسے جانتا بھی نہ تھا اور اتنے لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ اس وقت بھی اس کی یہی شہرت تھی بلکہ تم میں سے تقریباً سب کے سب ہی اس گاؤں سے نا واقف تھے۔ اب بتلاؤ کہ خدا کے ارادہ کے بغیر آج سے پچیش چھبیس برس پیشتر اپنی تنہائی اور گمنامی کے زمانے میں کوئی کس طرح دعوی کر سکتا ہے کہ مجھ پر ایک زمانہ آنے ولا ہے جب کہ ہزار ہا لوگ میرے پاس آئیں گے اور طرح طرح کے تحفے اور تحائف میرے لیے لاویں گے اور میں دنیا بھر میں عزت کے ساتھ مشہور کیا جاؤں گا ؟ عظیم الشان معرہ دیکھو! جتنے انبیاء آج سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بہت سے معجزات تو نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ بعض کے پاس تو صرف ایک ہی معجزہ ہوتا تھا اور جس معجزہ کا میں نے بیان کیا ہے یہ ایک ایسا عظیم الشان معجزہ ہے جو ہر ایک پہلو سے ثابت ہے اور اگر کوئی نرا ہٹ دھرم اور ضدی نہ ہو گیا ہو تو اُسے میرا دعویٰ بہر صورت ماننا پڑتا ہے۔ میری اس تنہائی اور گمنامی کے زمانے کے یہاں کے ہندو بھی گواہ ہیں اور وہ بتا سکتے ہیں کہ میں اس وقت اکیلا تھا اور ارد گرد کے لوگ بھی مجھے نہ جانتے تھے۔ ہاں اگر کوئی ہندو اس سے انکار کرے تو اس کو چاہیے