ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 24

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد جلد دہم پورے زور لگائے گئے اور ایسی ایسی حد بندیاں کی گئی تھیں کہ جو ہمیں السلام علیکم کہے وہ بھی کافر اور جو خوش خلقی سے پیش آوے وہ بھی کافر اور ہمارے ساتھ وہ باتیں کر لینی روا رکھی گئیں جن کو شریف طبع سن بھی نہیں سکتے ۔ راستوں میں بیٹھ بیٹھ کر لوگوں کو یہاں آنے سے روکا گیا اور طرح طرح کی باتیں پیش کر کے لوگوں کو ورغلایا گیا۔ مگر آخر وہی ہوا جو خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے فرمایا ہوا تھا کہ لاکھوں لوگ تیرے پاس آویں گے اور ہزار ہا روپے اور تحفے تحائف لائیں گے۔ اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی مخالفت اور دشمنی کی بابت بھی خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے اطلاع دی تھی بلکہ اسی کتاب میں ایک یہ الہام بھی درج ہے۔ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِهِ وَ إِنْ لَّمْ يَعْصِمُكَ النَّاسُ - (ص ۵۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا اور شریروں کی شرارتوں اور دشمنوں کے منصوبوں سے وہ خود تجھے محفوظ رکھے گا اور اگرچہ لوگ تیری حفاظت اور مدد نہ کریں گے مگر خدا ان سب الزاموں اور بہتانوں سے جو شریر لوگ تجھ پر لگائیں گے تیرا معصوم ہونا ثابت کر دے گا۔ اب دیکھو! یہ کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے جو پوری ہوئی آخر سچائی کی جستجو کرنے والے کو ماننا ہی پڑے گا اور جو بے ایمان ہے اس کا ہم کیا کریں؟ کیونکہ جو سچا ہی نہیں اس کا مذہب بھی کچھ نہیں کتنا بڑا معجزہ ہے کہ یہ سب مخالف پورا زور لگا لیں اور جو کچھ کر سکیں کریں مگر ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔ لیکھرام کی ہلاکت کا نشان دو ماہ ایسا ہی ایک پنڈت لیکھر ام تھا وہ قادیان میں آیا اور دو ماہ کے قریب یہاں رہا۔ یہاں کے لوگوں نے اُسے بہکایا اور میری مخالفت پر اسے آمادہ کیا ۔ آخر اس نے مباہلہ کے طور پر ایک دعا لکھی اور اس میں میرا نام اور اپنا نام لکھ کر اپنے پرمیشر سے نہایت تضرع اور انتہال کے ساتھ پرارتھنا کی کہ ہم دونوں میں سے جو لے بدر سے ۔ اب خود سوچ کر دیکھو کیا یہ کسی انسان کے بس میں ہے کہ تن تنہا اپنی مشکلات پر غالب آئے ہم کسی کو بالجبر نہیں منواتے بلکہ ہر ایک اپنے طور سے غور کر کے یہ بات سمجھے کہ آیا ہم سچ کہتے ہیں یا نہیں ۔ ( بدر جلدے نمبر ا مورخه ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴)