ملفوظات (جلد 10) — Page 300
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد دہم ہی نہیں سکتا ۔ پس مسلمان اطباء نے ایسی دقتوں کے واسطے لکھا ہے کہ دعاؤں سے کام لے۔ مریض سے سچی ہمدردی اور اخلاص کی وجہ سے اگر انسان پوری توجہ اور درد دل سے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر مرض کی اصلیت کھول دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی غیب مخفی نہیں ۔ پس یا درکھو کہ خدا سے الگ ہو کر صرف اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر جتنا بڑا دعویٰ کرے گا اتنی ہی بڑی شکست کھائے گا ۔ مسلمانوں کو توحید کا فخر ہے۔ توحید سے مراد صرف زبانی توحید کا اقرار نہیں بلکہ اصل یہ ہے کہ عملی رنگ میں حقیقتاً اپنے کاروبار میں اس امر کا ثبوت دے دو کہ واقعی تم موحد ہو اور توحید ہی تمہارا شیوہ ہے۔ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ہر ایک امر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس واسطے مسلمان خوشی کے وقت الحمد للہ اور غنمی اور ماتم کے وقت اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة : ۱۵۷) کہہ کر ثابت کرتا ہے کہ واقع میں اس کا ہر کام میں مرجع صرف خدا ہی ہے جو لوگ خدا سے الگ ہو کر زندگی کا کوئی حظ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کی زندگی بہت ہی تلخ ہے کیونکہ حقیقی تسلی اور اطمینان بجز خدا میں محو ہونے اور خدا کو ہی ہر کام کا مرجع ہونے کے حاصل ہو سکتا ہی نہیں ۔ ایسے لوگوں کی زندگی تو بہائم کی زندگی ہوتی ہے اور وہ تسلی یافتہ نہیں ہو سکتے۔ حقیقی راحت اور تسلی انہیں لوگوں کو دی جاتی ہے جو خدا سے الگ نہیں ہوتے اور خدا سے ہر وقت دل ہی دل میں دعا ئیں کرتے رہتے ہیں ۔ مذہب کی صداقت اس میں ہے کہ انسان خدا سے سچے مذہب میں پابندیاں ہوتی ہیں کسی حالت میں بھی الگ نہ ہو۔ وہ مذہب ہی کیا ہے اور زندگی ہی کیسی ہے کہ تمام عمر گذر جائے مگر خدا کا نام درمیان کبھی بھی نہ آوے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ سارے نقائص صرف بے قیدی اور آزادی کی وجہ سے ہیں اور یہ بے قیدی ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مخلوق کا بہت بڑا حصہ اس طرز زندگی کو پسند کرتا ہے۔ آج ہی ایک کتاب ہم نے دیکھی ہے جس میں بدھ کی زندگی کے حالات لکھے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کا قائل ہی نہیں تھا۔ اور کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہی ہے آئندہ کچھ نہیں ۔